’برطانیہ دولتِ اسلامیہ کےختم کرنے کے لیے پرعزم ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پیر کو وزیرِاعظم ڈیوڈ کیمرون اپنی ایک تقریر میں نوجوان برطانوی مسلمانوں کو دولتِ اسلامیہ میں شمولیت کے حوالے سے خبردار کریں گے

برطانیہ کے وزیرِاعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا ہے کہ ان کا ملک امریکہ کے ساتھ مل کر شام اور عراق میں دولتِ اسلامیہ کی خود ساختہ خلافت کو ختم کرنے کے بارے میں پر عزم ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے این بی سی سے بات کرتے ہوئے ڈیوڈ کیمرون کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت اس سلسلے میں زیادہ فعال کردار ادا کرنا چاہتی ہے لیکن اس معاملے پر پارلیمان کو بھی ساتھ لے کر چلنے کی ضرورت ہے۔

واضع رہے کہ دو سال قبل برطانوی پارلیمنٹ کی اکثریت نے شام میں فوجی مداخلت کے خلاف ووٹ دیا تھا۔

دریں اثنا برطانوی افواج کے سابق سربراہ لارڈ ریچرڈ نے مطالبہ کیا ہے کہ دولتِ اسلامیہ کو شکست دینے کے لیے نئی اور جامع حکمتِ عملی بنائی جائے اور برطانیہ کو جنگ کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

پیر کو وزیرِاعظم ڈیوڈ کیمرون اپنی ایک تقریر میں نوجوان برطانوی مسلمانوں کو دولتِ اسلامیہ میں شمولیت کے حوالے سے خبردار بھی کریں گے۔

دولتِ اسلامیہ کے خلاف جنگ میں برطانیہ کے ممکنہ کردار کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیرِاعظم کیمرون نے کہا کہ ’ میری خواہش ہے کہ برطانیہ اس سلسلے میں فعال کردار ادا کرے۔ مجھے ہمیشہ اپنی پارلیمنٹ کو ساتھ لے کر چلنا پڑے گا۔ ہم اس حوالے سے بات چیت کر رہے ہیں۔ حزبِ مخالف کی جماعتوں سے بھی بات ہو رہی ہے لیکن اس میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ ہم آپ (امریکہ) کے ساتھ مل کر شام اور عراق میں دولتِ اسلامیہ کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption برطانوی طیارے عراق میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائی کا حصہ رہے ہیں

دولتِ اسلامیہ کے حوالے سے ہی بی بی سی کے ایک پروگرام میں بات کرتے ہوئے برطانوی افواج کے سابق سربراہ لارڈ ریچرڈ کا کہنا تھا کہ دولتِ اسلامیہ کے خلاف مقامی جنگجوؤں کو مدد فراہم کرنے کی موجودہ حکمتِ عملی کامیاب ہوسکتی ہے لیکن اس حوالے سے کیے جانے والے اقدامات ناکافی ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ اگر آپ حقیقی معنوں میں ان کا خاتمہ کرنے چاہتے ہیں تو ہمیں جنگ کے لیے تیار رہنا چاہیے۔‘

لارڈ ریچرڈ کے مطابق وہ دولتِ اسلامیہ کے خلاف برطانوی اور امریکی افواج کی زمینی کارروائی کے اصولی طو پر مخالف نہیں ہیں۔

واضع رہے کہ رواں ہفتے امریکی فضائیہ کے ساتھ کام کرنے والے برطانوی پائلٹوں کی جانب سے شام میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائی میں حصہ لینے کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد حزبِ مخالف کی جماعتوں نے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ وضاحت کرے کہ پارلیمان کی جانب سے شام میں فوجی کارروائی کی مخالفت کے باوجود برطانوی پائلٹ شام میں امریکی فوجی کارروائی کا حصہ کیوں بنے۔

اسی بارے میں