ایران معاہدے پر اتحادیوں کے تحفظات: امریکی وزیر دفاع مشرق وسطیٰ میں

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption امریکی سیکریٹری دفاع مشرقِ وسطیٰ کے دورے کے پہلے مرحلے میں اسرائیل جائیں گے

امریکہ کے وزیرِ دفاع دفاع ایشٹن کارٹر اسرائیل سمیت سعودی عرب اور اردن کا دورہ کر رہے ہیں۔

ان کے دورے کا مقصد ایران کے ساتھ حال ہی میں اس کے جوہری پروگرام سے متعلق ہونے والے معاہدے پر تحفظات کے شکار ممالک کو اعتماد میں لینا ہے۔

ایران معاہدے سے کس کو کیا ملا؟

شیعہ سنّی ایٹ بم کی دوڑ

ایشٹن کارٹر اپنے دورہ مشرقِ وسطیٰ کے پہلے مرحلے میں اتوار کو اسرائیل پہنچے ہیں جسے ایران کے ساتھ معاہدے پر شدید تحفظات ہیں۔

خیال رہے کہ ایران کے ساتھ عالمی طاقتوں کے معاہدے پر سب سے زیادہ مخالفت اسرائیل نے کی اور اسے ’تاریخی غلطی‘ قرار دیا ہے۔

ایرانی جوہری معاہدے کے اعلان کے بعد اسرائیلی وزیراعظم نے پریس کانفرنس کی ہے جس میں ان کا کہنا ہے ’اس معاہدے میں امید ظاہر کی گئی ہے کہ ایران کی دہشت گرد حکومت ختم ہو جائے گی، لیکن اس مقصد کے لیے اس کوئی متحرک چیز نہیں ہے ۔ اس معاہدے نے ایران کو ترغیب دی ہے کہ وہ تبدیل نہ ہو۔‘

انھوں نے کہا کہ ’حیرت انگیز طور پر اس غلط معاہدے نے ایران کو اپنے جارحانہ رویے کو تبدیل کرنے پر دباؤ نہیں ڈالا اور اسرائیل ایران کے ساتھ معاہدے کا پابند نہیں ہے کیونکہ ایران اب بھی ہماری تباہی چاہتا ہے۔ ہم اپنا دفاع کریں گے۔‘

مبصرین کو خدشہ ہے کہ ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے اس بیان کے بعد کہ معاہدے کے بعد بھی ایران فلسطین، یمن، شام، عراق، بحرین اور لبنان کے عوام کی حمایت جاری رکھے گا، اسرائیلی خدشات میں مزید اضافہ ہو گیا ہو گا۔

اسرائیل کے وزیرِ دفاع نے اشارہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے عوض ان کا ملک امریکہ سے کہہ سکتا ہے کہ وہ اسرائیل کی فوجی امداد میں اضافہ کرے۔

اگرچہ سعودی عرب کو بھی ایرانی معاہدے سے اسرائیل جیسے ہی خدشات کا سامنا ہے، تاہم سرکاری سطح پر سعودی عرب نے یہی کہا ہے کہ وہ اس معاہدے کی حمایت کرتا ہے۔

اپنے مشرق وسطیٰ کے دورے کے دوران ایشٹن کارٹر اردن بھی جائیں گے جہاں وہ شدت پسند گروہ دولتِ اسلامیہ کے خلاف حکمت عملی پر بات چیت کریں گے۔

اسی بارے میں