سونے کی قیمتوں میں ریکارڈ کمی

تصویر کے کاپی رائٹ THINKSTOCK
Image caption ماہرین کا کہنا ہے کہ سونے کی قیمتوں میں کمی کا اثر پاکستانی مارکیٹ پر بھی پڑے گا

سونے کی قیمت گزشتہ پانچ سال کی کم ترین سطح پر آگئی ہے اور اس کی وجہ امریکی ڈالر کی شرح سود میں اضافے کی خبروں کے سامنے آنے کے بعد سرمایہ کاروں کی جانب سے بڑی تعداد میں سونا فروخت کرنا ہے ۔

پیر کو بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کے ابتدائی کاروبار میں اس کی قیمت میں 4 فیصد تک کی کمی آئی۔

ایشیائی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں فی اونس تقریباً 12 ڈالر کمی آئی ہے۔

واضع رہے کہ عام طور پر سرمایہ کار غیر یقینی معاشی صورتحال کے دور میں سونا خریدتے ہیں، لیکن اب اس امید کے بعد کہ شرح سود میں اضافہ ہوگا سرمایہ کاروں نے امریکی ڈالر کا رخ کیا ہے۔

دیگر ممالک کی طرح چین میں بھی سونے کی دھڑا دھڑ فروخت جا رہی ہے اور پیر کی صبح ہی چین کے شنگھائی گولڈ ایکسچینج کے کھُلنے کے کچھ منٹوں میں ہی سونے کی بڑی مقدار میں خرید و فروخت دیکھنے میں آئی۔

چین سونے کا سب سے بڑا خریدار ہے اور قیمتوں میں کمی اس کے یہ کہنے کے باوجود ہوئی ہے کہ جون میں چین کے سونے کے ذخائر میں گزشتہ چھ سالوں کی نسبت 57 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

بھارتی منڈیوں میں بھی سونے کی قیمتوں میں میں تقریباً 2 فیصد کمی دیکھی گئی اور 10 گرام سونے کا بھاؤ 25،000 روپے سے نیچے چلا گیا ہے۔

خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق پلاٹینم کی قیمت میں بھی 5 فیصد تک کی کمی دیکھی گئی ہے اور چاندی بھی مندی کی جانب مائل ہے۔

پیر کو ایشیائی کرنسی مارکیٹ میں مقامی کرنسی کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قیمت میں اضافہ دیکھنے میں آیا جس کا اثر سونے کے بھاؤ پر بھی دکھائی دے رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سونے کی قیمتوں میں کمی کا اثر پاکستانی مارکیٹ پر بھی پڑے گا۔

اسی بارے میں