ملائیشیا: موبائل چوری قومی مسئلہ کیسے بنی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کوالا لمپور کے ایک شاپنگ مال میں جھگڑا اس وقت شروع ہوا جب ملے نسل کے دو افراد ایک چینی دکاندار سے موبائل لیکر بھاگ گئے

گذشتہ ہفتے ملائیشیا میں بظاہر ایک چھوٹا سا واقعہ اتنا بڑا مسئلہ بن گیا کہ اس کی بازگشت پورے ملک میں سنائی دینے لگی۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر جاری دھواں دھار بحث ملائیشیا کے ایک دیرینہ مسئلے کی نشاندہی ہوتی ہے جس کا تعلق نسلی کشیدگی سے ہے۔

یہ ساری بحث شروع اس وقت ہوئی جب ’ملے‘ نسل کے دو خریدار کوالا لمپور کے ایک شاپنگ مال میں موبائل خریدنے پہنچے جہاں چینی نسل کے دکاندار سے موبائل کی قیمت پر لے دے ہو گئی۔ جب دونوں فریق قیمت پر متفق نہ ہو سکے تو گاہک مذکورہ موبائل اٹھا کر بھاگ گئے۔

تھوڑی ہی دیر میں پولیس نے انھیں گرفتار کر لیا اور یہی وہ لمحہ تھا جب بات بگڑ گئی۔

ان میں سے ایک شخص کو رہا کر دیا گیا اور چند ہی گھنٹے بعد وہ شخص اپنے ہم نسل ’ملے‘ ساتھیوں کو لیکر اسی دکان پر واپس آ گیا۔ اس شخص کا کہنا تھا کہ چینی دکاندار نے ان سے دھوکہ کیا ہے۔

ایک مقامی صحافی کا کہنا تھا کہ وہ خود موقعے پر موجود تھے اور ان کا خیال ہے کہ یہ لوگ وہاں چینی دکاندار کی پٹائی کرنے کے لیے آئے تھے۔

لیکن دکانداروں نے الٹا ان لوگوں کی پٹائی شروع کر دی۔

دونوں گروہوں میں دھینگا مشتی شروع ہو گئی اور موقعے پر موجود ایک شخص نے واقعے کی ویڈیو بنا کر فیس بُک پر پوسٹ کر دی۔ ویڈیو کے پوسٹ ہوتے ہی لوگوں نے اسے ایک نسلی بحث بنا دیا جس کا نشانہ ملائیشیا میں رہنے والی چینی نسل کے لوگ تھے۔فیس بُک پر کئی لوگوں نے ملے خریدار اور اس کے ساتھیوں کا دفاع کیا۔

ایک صارف نے لکھا کہ ’میں ان سات لوگوں کو سلام پیش کرتا ہوں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption صورت حال کی نزاکت کے پیشِ نظر ملک کے وزیر اعظم نجیب رزاق بھی خود کو اس بحث سے الگ نہیں رکھ سکے۔

’کئی دکانداروں نے آپ لوگوں کو مِل کر مارا لیکن آپ لوگ وہاں سے بھاگے نہیں۔‘

اتوار تک صرف فیس بُک پر اس ویڈیو کو آٹھ لاکھ مرتبہ دیکھا جا چکا تھا اور لوگ اسے ٹوئٹر سمیت دیگر پلیٹ فارمز پر بھی شیئر کر رہے تھے۔

سوال پیدا ہوتا ہے کہ سنیچر گیارہ جولائی کو پیش آنے والے ایک چھوٹے سے واقعے پر پورے ملائیشیا میں اتنی زیادہ بد امنی کیوں ہوئی۔؟

’اس کی سب سے بڑی وجہ ملے اور چینی نسل کے درمیان پائے جانے والی وہ کشیدگی ہے جو عام طور پر دکھائی نہیں دیتی لیکن یہ اِس معاشرے میں موجود ہے۔‘

بی بی سی مانیٹرنگ سے منسلک سی یِن کہتے ہیں کہ ’ چینی نسل کے لوگوں کی جو شبیہہ پیش کی جاتی ہے، اسے دیکھ کر کچھ لوگ یہ سوچنا شروع کر دیتے ہیں کہ یہ لوگ مقامی لوگوں کے مقابلے میں زیادہ اچھی نوکریاں کر رہے ہیں اور کاروبار پر بھی ان کا قبضہ ہے۔‘

سرکاری حکام نے اس واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی۔ ٹوئٹر پر بیان جاری کرتے ہوئے مقامی پولیس کا کہنا تھا کہ وہ محض ایک جرم کی تفتیش کر رہے ہیں اور اس کا کسی خاص نسل سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ایک ملے اور ایک چینی نوجوان کے درمیان دوستی کی یہ تصویر سوشل میڈیا پر بہت تیزی سے پھیل گئی

صورت حال کی نزاکت کے پیشِ نظر ملک کے وزیر اعظم نجیب رزاق بھی خود کو اس بحث سے الگ نہیں رکھ سکے۔

فیس بُک پر وزیرِ اعظم نے لوگوں کو خبردار کرتے ہوئے لکھا کہ ’اس واقعے کو نسلی جھگڑے کی بجائے ایک جرم ہی سمجھنا چاہیے۔ میں نے سوشل میڈیا پر ایسی تصاویر دیکھی ہیں جن کا اس واقعے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم حقائق کا جائزہ لیں اور بلوے سے پرہیز کریں۔‘

وزیر اعظم کے انتباہ کے علاوہ کئی صارفین نے بھی فیس بُک اور ٹوئٹر پر ایسی تصاویر شائع کی ہیں جن میں دکھایا گیا ہے کہ تمام ملے اور چینی نسل کے لوگوں میں کشیدگی نہیں پائی جاتی اور بہت سے چینی اور ملے لوگ ایک دوسرے کے اچھے دوست ہیں۔

اسی بارے میں