توشیبا کے صدر غلط منافغ ظاہر کرنے پر مستعفی

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ہساؤ تناکا کے مستعفیٰ ہونے کے بعد کمپنی کے چئیرمین کو توشیبا کا نیا صدر منتخب کیا گیا ہے

جاپان کی ٹیکنالوجی کمپنی توشیبا کے چیف ایگزیکٹو اور صدر ہساؤ تناکا اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے ہیں۔

اُن پر الزام ہے کہ انھوں نے گذشتہ چھ برس سے کمپنی کا منافع زیادہ بتایا ہے۔

پیر کو توشیبا کی جانب سے نامزد کردہ آزادانہ پینل نے کہا تھا کہ کمپنی نے آپریٹنگ منافعے کو ایک ارب دو کروڑ بیس لاکھ ڈالر تک بڑھا چڑھا کر پیش کیا اور یہ منافع توشیبا کے ابتدائی اندازے سے تقریباً تین گنا زیادہ تھا۔

ہساؤ تناکا کے مستعفی ہونے کے بعد کمپنی کے چیئرمین کو توشیبا کا نیا صدر منتخب کیا گیا ہے۔

کمپنی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس بات کاانکشاف اس وقت ہوا جب اکاؤنٹس میں طویل عرصے تک جاری رہنے والے غیر موزوں اندراج کی تفصیل سامنے آئی۔

بیان میں کمپنی کے شیئرز رکھنے والوں اور شراکت داروں سے معافی مانگی گئی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ان وجوہات کی وجہ سے کمپنی نے صدر اور نائب چیئرمین اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے ہیں۔

64 سالہ مسٹر تناکا نے 1970 کی دہائی میں توشیبا کمپنی میں ملازمت شروع کی تھی اور 2009 -2013 کے عرصے کے دوران وہ کمپنی کے صدر رہے اور اس عرصے کے دوران انھوں نے کمپنی کا منافع زیادہ ظاہر کیا۔

توشیبا کمپنی کے اکاؤنٹس کا سکینڈل اُس وقت سامنے آیا جب سکیورٹی ریگولیٹرز نے کمپنی کی بیلنس شیٹ کا جائزہ لیا۔

اس سکینڈل کے منظرِعام پر آنے کے بعد سنہ 2008-2014 کے عرصے کے دوران کمپنی کو اپنے منافعے کا دوبارہ سے جائزہ لینا ہو گا۔

اسی بارے میں