’ضمیر کے قیدیوں‘ کی رہائی کیلیے کام کرنے والی تنظیم کو سندِ سفارت

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بین لاقوامی معاشی، سماجی اور انسانی حقوق کے مسائل پر کام کرنے والے اقوام متحدہ کے خصوصی فورم کے 54 میں سے 29 ممبران نے فریڈم ناؤ کے حق میں ووٹ ڈالا

اقوامِ متحدہ نےدنیا بھر میں ’ضمیر کے قیدیوں‘ کی رہائی کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم ’فریڈم ناؤ‘ کو تسلیم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

اس پیش رفت کو امریکہ کی کامیابی اور چین سمیت دیگر مخالفین کی ناکامی قرار دیا جا رہا ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ ماہ اقوامِ متحدہ کی ایک کمیٹی جو کہ غیر سرکاری تنظیموں یا این جی اوز کو سندِ سفارت دیتی ہے نے امریکہ میں موجود اس غیر سرکاری تنظیم کی ایسی ہی ایک درخواست کو مسترد کر دیا تھا۔

تاہم امریکہ نے کمیٹی کو کنٹرول کرنے والی مرکزی تنظیم اکنامک اینڈ سوشل کونسل جسے ای سی او ایس او سی کا نام بھی دیا جاتا ہے سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا۔

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق کُل 54 ممبران پر مشتمل اقوامِ متحدہ کی اس تنظیم کے 29 ممبران نے ’فریڈم ناؤ‘ کے حق جبکہ نو نے اس کی مخالفت میں ووٹ ڈالا۔ گیارہ ممالک موجود حاضری کے باوجود اس فیصلے کے حق یا مخالفت میں حصہ نہیں لیا جبکہ پانچ نے ووٹنگ میں شرکت ہی نہیں کی۔

فریڈم ناؤ کے خلاف ووٹ ڈالنے والے ممالک میں چین، پاکستان، روس اور سوڈان بھی شامل تھے۔ جبکہ اس کے حامیوں میں آسٹریلیا، البانیہ، فرانس، جرمنی اور جاپان، یوراگوئے، برطانیہ، امریکہ اور سوئٹزرلینڈ شامل ہیں۔

امریکی سفیر سمانتھا پاور نے رائے شماری کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’فریڈم ناؤ بین الاقوامی طور پر موجود اہم ضرورت کو پورا کرتا ہے اور یہ سیاسی قیدیوں کو لڑنے کا موقع دیتا ہے۔‘

فریڈم ناؤ نے اس سے قبل خصوصی مشاورتی درجہ حاصل کرنے کے لیے سنہ 2009 میں ای سی او ایس او سی کو درخواست دی تھی۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ وہ اقوامِ متحدہ میں کام کر سکے۔

ای سی او ایس او سی اقوامِ متحدہ کا مرکزی فورم ہے جہاں دنیا بھر کے معاشی اور سماجی مسائل کے ساتھ انسانی حقوق پر بھی بات چیت کی جاتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ RIA Novosti
Image caption فریڈم ناؤ کے خلاف ووٹ دینے والوں میں پاکستان، روس اور چین بھی شامل تھے

امریکی سفیر سمانتھا پاور کے مطابق فریڈم ناؤ سے منسلک وکلا ایسے قیدیوں کی رہائی کے لیے کام کرتے ہیں جنھیں بے انصافی سے سیاسی، مذہی یا یگر عقائد کی بِنا پر قید کیا جاتا ہے۔

اس ادارے کی جانب سے چلائی جانے والی تحریکوں میں سے ایک نوبیل انعام یافتہ لیو شابو کی رہائی کی کوشش بھی ہے جنھیں چین میں حکومت کے خلاف آواز اٹھانے پر 11سال کی قید کی سزا دی گئی۔

فریڈم ناؤ کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر مارن ٹرنر نے اقوامِ متحدہ کے اس خصوصی فورم اور خاص طور پر امریکہ کا شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہم اس درجے کوانسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور من مانی گرفتاریوں کے خلاف دنیا کی توجہ اور کوششوں کو مزید بہتر کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق چین اور روس کے اقوامِ متحدہ میں موجود مشن کے نمائندوں سے اس بارے میں رائے نہیں لی جا سکی کہ وہ فریڈم ناؤ کو سندِ سفارت دینے کی مخالفت کیوں کی۔

اسی بارے میں