’پتھراؤ کرنے والے کے لیے 20 سال قید‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس قانون کی منظوری کے بعد حکومت کو یہ ثابت نہیں کرنا ہو گا کہ پتھراؤ کرنے والا شخص گاڑی کو یا اس میں بیٹھے افراد کو نقصان پہنچانا چاہتا تھا

اسرائیل کی پارلیمنٹ نے ایک نیا قانون منظور کیا ہے جس کے تحت گاڑیوں پر پتھراؤ کرنے والے کو 20 سال قید ہو گی۔

اس قانون کی منظوری کے بعد ایک فلسطینی رہنما نے اس قانون کو معتصبانہ اور ضرورت سے زیادہ سخت قرار دیا ہے۔

اسرائیلی پارلیمنٹ کنیسٹ میں اس قانون کے حق میں 69 ممبران جبکہ مخالفت میں 17 ممبران نے ووٹ دیا۔

گذشتہ سال مشرقی یروشلم میں فلسطینیوں کی جانب سے مظاہروں اور ان مظاہروں میں سکیورٹی فورسز کی گاڑیوں پر پتھراؤ کے بعد اسرائیلی پارلیمنٹ نے یہ قانون منظور کیا ہے۔

اس سے قبل پتھراؤ میں اگر کوئی شخص زخمی نہ ہو تو اس کی سزا تین ماہ تھی۔

تاہم اس قانون کی منظوری کے بعد حکومت کو یہ ثابت نہیں کرنا ہو گا کہ پتھراؤ کرنے والا شخص گاڑی کو یا اس میں بیٹھے افراد کو نقصان پہنچانا چاہتا تھا۔

واضح رہے کہ 1980 اور 1990 سے پتھراؤ کر کے مظاہرے کرنا فلسطینیوں کا طریقہ رہا ہے۔

اس قانون کو منظور کرانے میں آگے آگے وزیر انصاف ایلت شاکد کا کہنا ہے کہ پتھراؤ کرنے والے ’دہشت گرد‘ ہیں اور ان کو ایسا کرنے سے باز رکھنے کے لیے سخت سزا کی ضرورت ہے۔