بحیرۂ روم میں تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے سے ’درجنوں لاپتہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اقوام متحدہ کا کہنا ہے رواں سال 60 ہزار سے زائد تارکین وطن بحیرۂ روم کے راستے یورپ داخل ہونے کی کوشش کر چکے ہیں

لیبیا کے ساحل کے قریب بحیرۂ روم میں کشتی ڈوب جانے سے 40 کے قریب افریقی تارکین وطن کے ڈوب جانے خدشہ ہے۔

زندہ بچ جانے والے تارکین وطن نے اقوام متحدہ اور امدادی اداروں کو بتایا کہ بدھ کو کشتی میں 120 سے زائد افراد سوار تھے جب اس میں پانی بھرنا شروع ہوگیا تھا۔

اس دوران کشتی میں بچوں اور خواتین سمیت متعدد افراد ڈوب گئے جبکہ 90 کے قریب افراد کو بچا لیا گیا اور انھیں اٹلی پہنچا دیا گیا۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے رواں سال 60 ہزار سے زائد تارکین وطن شمالی افریقہ سے بحیرۂ روم کے راستے یورپ داخل ہونے کی کوشش کر چکے ہیں۔

اس دوران 1800 افراد کی ہلاکت ہوئی، یہ تعدادگذشتہ سال کے مقابلے میں 20 گنا زیادہ ہے۔

فلاحی ادارے سیو دی چلڈرن کی ترجمان گیوونا ڈی بینیڈیٹو کے مطابق تمام تارکین وطن کا تعلق سینگال، مالی، بینن اور سب سہارا کے علاقوں سے تھا۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزیں کے ترجمان فیڈریکو فوسی نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا: ’میرے ساتھی بچ جانے والوں سے انٹریو کر رہے ہیں۔۔۔ جو اس سہ پہر آگسٹا (سیسیلی) پہنچے ہیں، اور ان کا کہنا ہے کہ 35 سے 40 افراد سمندر میں لاپتہ ہیں۔‘

زندہ بچ جانے والے افراد کئی گھنٹے بعد ایک تجارتی جہاز میں سوار ہوئے اور انھیں علاقے میں موجود جرمن بحریہ کے جہاز کے ذریعے سیسیلی پہنچایا گیا۔

واضح رہے کہ ہرسال ہزاروں کی تعداد میں افراد افریقہ اور مشرق وسطیٰ کے غربت اور شورش کے شکار علاقوں سے غیرقانونی طور پر یورپ داخل ہوتے ہیں۔

رواں سال بحیرۂ روم میں تارکین وطن کی کشتیاں ڈوبنے کے متعدد واقعات پیش آچکے ہیں جس میں اپریل میں ایک بحری جہاز ڈوبنے سے 800 افراد کی ہلاکت کا واقعہ بھی شامل ہے۔

اسی بارے میں