شام سے لوٹنے والے آسٹریلوی شہری گرفتاری کے بعد عدالت میں پیش

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption آسٹریلیوی حکومت کے مطابق اس کے کم ازکم 100 شہری مشرقِ وسطیٰ میں موجود دہشت گرد گروہوں کے ساتھ ملکر لڑ رہے ہیں

نرسنگ کے شعبے سے وابستہ آسٹریلوی شہری، جن کا موقف ہے کہ انھیں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے اپنے لیے کام کرنے پر مجبور کیا، انھیں سڈنی پہنچنے کے بعد عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔

39 سالا آسٹریلوی شہری ایڈم بروکمین کو جمعے کو سڈنی کے ہوائی اڈے سے حراست میں کیا گیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ’شام میں غیر قانونی سرگرمیوں کے الزام میں انھیں حراست میں لیا گیا ہے۔‘

وہ پہلے آسٹریلوی شہری ہیں جو وطن واپس لوٹ کر دہشت گردی کے نئے قانون کے تحت تفتیش کا سامنا کر رہے ہیں۔

آسٹریلیا کے قانون و انصاف کے وزیر مائیکل کینن کا کہنا ہے کہ آسٹریلیوی شہری واپس تو سکتے ہیں لیکن انھیں تحقیقات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

مذہب اسلام قبول کرنے والے آسٹریلوی شہری مسٹر بروکمین کا کہنا ہے کہ وہ انسانیت کی فلاح و بہبود کی خاطر شام گئے تھے لیکن فضائی حملے میں زخمی ہونے کے بعد شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے زیر کنٹرول ہسپتال میں لائے گئے اور اُس کے بعد دولتِ اسلامیہ نے انھیں اپنے ساتھ کام کرنے پر مجبور کیا۔

یولیس نے بیان میں کہا ہے کہ ’21 جولائی کو مرد رضاکار نے ترکی میں حکام کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔‘

حکام کے مطابق ابھی بروکمین پر کوئی الزام عائد نہیں کیا گیا۔ آسٹریلیا میں اُن کی واپسی حکومت اور بین الاقوامی ایجنسیوں سے مذاکرات کے بعد ممکن ہو سکی ہے۔

ایڈم بروکمین ویڈیو لنک کے ذریعے سڈنی عدالت میں پیش ہوئے لیکن انھوں نے عدالت کے سامنے کوئی بیان نہیں دیا۔ مقامی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ انسداد دہشت گردی کے حکام کی درخواست کے بعد انھیں میلبرن منتقل کر دیا جائے گا۔

Image caption اپنے کسی بھی شہری کو دولتِ اسلامیہ میں شرکت کرنے کے لیے نہیں جانے دے گا: ٹونی ایبٹ

ابھی یہ واضح نہیں کہ بروکمین چار دسمبر کو بھی شام میں ہی تھے یا نہیں۔ کیونکہ اس وقت آسٹریلوی حکومت کی جانب سے یہ کہا گیا تھا کہ اگر کوئی شہری رقہ جائے گا تو اسے 10 سال قید کی سزا ہوگی۔

آسٹریلیا کے وزیراعظم ٹونی ایبٹ نے آسٹریلیا کے دہشت گردی کے خلاف قوانین کو مزید سخت کر دیا ہے۔اس نئی قانون سازی میں دہشت گرد تنظیموں پر پابندی عائد کرنا بھی آسان ہے۔

آسٹریلوی حکومت کے مطابق اس کے کم ازکم 100 شہری مشرقِ وسطیٰ میں موجود دہشت گرد گروہوں کے ساتھ مل کر لڑ رہے ہیں جبکہ 150 ایسے شہری ہیں جو کرد جنگجوؤں جیسےگروہوں کی مدد کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں