روس قطبِ شمالی اور بحر اوقیانوس میں اپنی بحری قوت کو بڑھائے گا

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption نئے بحری نظریے کے تحت روس بحر الکاہل میں چین اور بحر ہند میں بھارت کے ساتھ تعاون بڑھائے گا

روس کا کہنا ہے کہ وہ اپنی سرحدوں کے قریب نیٹو کی بڑھتی ہو سرگرمیوں کے جواب میں قطب شمالی اور بحر اوقیانوس میں اپنی بحری قوت کو بڑھائے گا۔

کریملن کی جانب سے اس نئے بحری نظریے کا اعلان اتوار کو روس کے قومی بحری دن کے موقع پر کیا گیا ہے۔

روس کے نائب وزیرِاعظم دیمیتری روگوزن کا کہنا ہے کہ قطب شمالی خطہ روس کو بحر اوقیانوس اور بحر الکاہل تک لامحدود رسائی فراہم کرتا ہے اس لیے نیوی کو برف والے پانیوں میں چلنے والے بحری جہازوں کا نیا بیڑا دیا جائے گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ قطب شمالی معدنیات سے بھی مالا مال ہے۔

اس نئے بحری نظریے کے تحت روس بحر الکاہل میں چین اور بحر ہند میں بھارت کے ساتھ تعاون بڑھائے گا۔

روس کے نئے بحری نظریے کے حوالے سے منعقد ایک تقریب جس میں صدر پوٹن بھی موجود تھے ملک کے نائب وزیرِاعظم روگوزن کا کہنا تھا کہ ’ ہماری توجہ دو سمتوں کی طرف ہے ، قطب شمالی اور اوقیانوس۔ ہماری اس سمت توجہ کی وجہ حالیہ عرصے میں نیٹو کی اس خطے میں بڑھتی ہوئی سرگرمیاں ہیں جن کا جواب روس تقینی طور پر دے گا۔‘

اس تقریب کا انعقاد نیٹو کے دو ممبران ممالک پولینڈ اور لتھوانیا کے درمیان واقع روسی علاقے کالننگراڈ میں کے ایک روسی بحری اڈے پر ہوا تھا۔

روس کے نائب وزیرِاعظم روگوزن کا اس موقعے پر مزید کہنا تھا کہ ان کا ملک بحیرہ روم میں میں بھی بحری اڈے بنائے گا اور سواستوپول سمیت خطے کی معشیت میں بھی سرمایہ کاری کرگا۔

واضع رہے کہ سنہ 1998 میں سویت یونین کے ٹوٹنے کے باوجود روس نے سواستوپول میں واقع بڑے بحری اڈے کا کنٹرول اپنے پاس رکھا تھا۔

اسی بارے میں