سورج، ساحل کی ریت اور شاہ سلمان

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

سعودی عرب کے شاہ سلمان تین ہفتوں کی چھٹیوں پر جنوبی فرانس پہنچ گئے ہیں لیکن یہ کوئی معمولی چھٹیاں نہیں ہیں۔

شاہ سلمان کے سکون اور آرام کی غرص سے ساحل کو عام لوگوں کے لیے بند کیے جانے اور ان کے وِلا سے 300 میٹر تک کے علاقے کو خالی رکھنے پر مقامی افراد پہلے ہی ناراض ہیں۔

ان کے فرانس آنے پر بہت سے کاروباری حضرات ان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بہت زیادہ خوش ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سعودیوں کے آنے سے علاقے میں آمدن ہو گی۔

تو سعودی شاہ کی چھٹیوں کی فہرست اصل میں ہے کیا؟

کمرہ نظارے کے ساتھ تخت:

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

دنیا کے سب سے امیر شاہی خاندانوں میں سے ایک کے سربراہ کے طور پر شاہ سلمان کا عالی شان رہائش کا شوقین ہونا حیران کن بات نہیں ہے۔

ولیرئیس میں ان کا ولا ’فرنچ ریوییرا‘ کی چٹانوں کے درمیان بنا ہوا ہے جو ایک دلکش تصویر کی مانند سینکڑوں میٹر تک ساحل پر پھیلا ہوا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

اس وِلا کو سنہ 1932 میں ماہرِ تعمیرات بیری ڈائیرکس نے تعمیر کیا تھا اور ماضی میں یہاں بہت سی مشہور شخصیات قیام کرچکی ہیں۔ ان شخصیات میں ونسٹن چرچل، ریٹا ہے ورتھ اور مارلن منرو شامل ہیں۔

اب آئندہ تین ہفتوں تک یہاں شاہ سلمان کے خاندان والے اور قریبی ساتھی قیام کریں گے۔

وِلا میں نئی کھڑکیاں اور تازہ پھول لگا دیے گئے ہیں جبکہ کچھ ایسی بھی اطلاعات ہیں کہ شاہ سلمان کے لیے بالکنی میں ایک تخت بھی رکھا گیا ہے تاکہ شاہ کو باہر کا نظارہ کرتے ہوئے کوئی خلل محسوس نہ ہو۔

زبردست ٹرانسپورٹ:

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

سعودی شاہ اور تقریباً ایک ہزار افراد پر مشتمل اُن کے قافلہ کو لے کر سعودی ائیر لائن کے دو بوئنگ 747 جہاز سنیچر کو نیس کے ہوائی اڈے پر اترے ہیں۔

جس کے بعد79 سالہ شاہ اور ان کے مہمانوں کو ان کی ذاتی رہائش گاہ تک پہنچانے کے لیےگاڑیوں کی دس قطاریں پہلے سے ہی موجود تھی۔

مقامی ڈرائیوروں کا کہنا ہے کہ سعودی مہمانوں کے لیے تقریباً 400 لگژری سلون گاڑیاں منگوائی گئی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

ان گاڑیوں کو شاہ کے رشتہ داروں اور دوستوں کو علاقے کے سیاحتی مقامات اور ساحلوں پر لے جانے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

خبر رساں ادارے ای ایف پی کے مطابق ایک ڈرائیور کا کہنا ہے کہ’ہمیں سعودی مہمانوں کو ریستورانوں میں لے جانے کے لیے کہا گیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ انھیں سینٹ ٹروپے، موناکو، نیس اور مختلف وِلاز لے جانا ہے کیونکہ وہ کچھ پراپرٹی خریدنا چاہتے ہیں۔‘

اچھے ساتھی، اور وہ بھی بہت سے:

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

موسم گرما کی چھٹیاں اپنے دوستوں اور گھر والوں کے ساتھ وقت گزارنے کا بہترین موقع ہوتا ہے۔ لیکن ایک ہزار قریبیوں اور چاہنے والوں کو بلانا شاید بہت زیادہ ہے۔

شاہ سلمان کے قریبی ان کے ساتھ سمندر کے سامنے والی عالی شان رہائش گاہ میں رہیں گے جبکہ باقی 700 ساتھی کان کے مہنگے ہوٹلوں میں قیام کریں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

تیل سے مالا مال سرزمین سے آنے والے مہمانوں کی وجہ سے علاقے میں سیکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔

بعض مقامی لوگ شاہ اور ان کے مہمانوں کو بہت زیادہ توجہ دینے پر اکتائے ہوئے ہیں جبکہ باقی ان کے آنے پر خوش ہیں۔

فور سٹار ہوٹل مونٹیانی جہاں سعودیوں نے آدھے کمروں کی بکنگ کروائی ہے کے ڈائریکٹر سری رینہارڈ کا کہنا ہے کہ’اس سے ہماری معیشت پر تو اثر پڑے گا ہی لیکن اس کے ساتھ ریستوران اور ڈرائیوروں وغیرہ کو بہت فائدہ ہوگا۔‘

علیحدہ بیچ:

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

شاید شاہ کی فہرست میں بیچ یعنی ساحل سب سے زیادہ ہیں۔

ویلیرئس کے مینشن کے ساتھ موجود ساحل جو عام طور پر چھٹیوں پر آئے اور سن باتھ کے لیے آئے لوگوں سے کچھاکچھ بھری ہوتی ہے۔

تاہم سعودی شاہ کے سکون اور آرام کی غرص سے ساحل کو عام لوگوں کے لیے بند کیا گیا ہے اور ان کے وِلا سے 300 میٹر تک کے علاقے کو خالی رکھنے کا کہا گیا ہے۔

فرانس میں ایک لاکھ سے زائد افراد نے سعودی شاہ سلمان کی آمد پر مشہور ساحلی تفریحی مقام ’فرینچ ریوییرا‘ تک عوام کی رسائی پر پابندی کے خلاف پٹیشن پر دستخط کیے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

اسی بارے میں