جنگ دولت اسلامیہ کے خلاف لیکن کون کسے مار رہا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ ISIS
Image caption امریکہ ابھی بھی دولت اسلامیہ کے خلاف ایک طویل مدتی پروگرام پر غور کر رہا ہے

ایک صحافی نے نام نہاد دولت اسلامیہ کے خلاف جنگ پر امریکی دفترِ خارجہ کے ترجمان جان کربی سے سوالات کیے جن میں ایک آسان سا سوال تھا کہ آخر ’کون کس کو مار رہا ہے؟‘

درحقیقت یہ ایک اچھے سوال کے ساتھ ایک بڑا مسئلہ بھی ہے کیونکہ امریکہ مختلف محاذ پر اہم عسکری کوششوں کو ایک قابلِ عمل طویل مدتی حکمت عملی میں تبدیل کرنے کی کوششوں میں لگا ہوا ہے۔

اب جبکہ کہ ہم امریکہ کی سربراہی میں دولت اسلامیہ کو ’کمزور اور بالآخر ختم کرنے‘ کی عالمی کوششوں کا ایک سال پورا کرنے والے ہیں تاہم ابھی یہ غیر واضح ہے کہ یہ عالمی اتحاد کتنا موثر رہا ہے۔

سی آئی کے سابق نائب ڈائرکٹر جان میک لافلن نے ایسپن سکیورٹی فورم میں مشرق وسطیٰ کی حالیہ صورت حال کا یورپ کی 30 سالہ جنگ سے موازنہ کیا جس کے تحت جنگوؤں کے سلسلے بڑھتے رہے اور ایک تباہ کن جنگ ہوئی جس نے بڑی حد تک یورپ کے خدوخال کو بدل دیا۔

میک لافلن نے کہا کہ عراق، شام، یمن اور لیبیا میں بڑی جنگيں جاری ہیں جن میں سنی، شیعہ، ایرانی اور عربی، حکومت، جنگجو، مصلح اور روایت پرست سب شامل ہیں۔ کسی نہ کسی شکل میں سب ایک دوسرے پر گولی چلا رہے ہیں۔

Image caption سیف زون کے قیام کو تارکین وطن کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے

اس کا نتیجہ تارکین وطن اور بے گھر افراد کی شکل میں نکل رہا ہے، جو نہ صرف مستقبل میں حکومت کو براہ راست جنگ میں شامل ہونے کے لیے ایک چیلنج ہے بلکہ لبنان، اردن اور ترکی جیسے پڑوسی ممالک کی آبادی اور سیاست کے لیے بھی ایک چیلنج ہے۔

گذشتہ ایک سال کے دوران امریکہ نے ان تمام جھگڑوں میں ایک مشترکہ کھلاڑی دولت اسلامیہ کے خلاف جنگ کے لیے 62 ممالک کا اتحاد قائم کیا ہے۔ اس کا مثبت پہلو یہ ہے کہ گذشتہ سال کے مقابلے اب دولت اسلامیہ کا قبضہ 25 فی صد علاقوں پر کم ہوا ہے اور ان سے علاقوں کا قبضہ واپس لینا دولت اسلامیہ کے جواز اور اس کی خلافت کے رعب کو ختم کرنے کی راہ میں بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔

اب تک دولت اسلامیہ کو ناکامیوں کے مقابلے زیادہ کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔ اس کی شکست کے لیے اس تناسب کا بدلنا ضروری ہے۔

اس کا منفی پہلو یہ ہے کہ امریکہ ابھی تک ’عسکری کوششوں میں یگانگت‘ حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے جو کہ فتح کے لیے ناگزیرہے۔

اس کی ایک وجہ جنگ کی پیچیدگی ہے جس میں ’دشمن کا دشمن‘ جیسا مرکب ہے اور سعودی عرب، ایران، النصرہ فرنٹ، حزب اللہ، بشار الاسد اور کرد وائی پی جی سبھی دولت اسلامیہ کے خلاف برسرپیکار ہیں۔ لیکن ان کی موجودگی اور ان کے مختلف مقاصد فی الحال کسی جامع حل کے امکانات کو تقریباً ناممکن بناتے ہیں۔

ان میں سے بہت سے مفادات ترکی میں ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ترکی نے ایک عرصے بعد دولت اسلامیہ کے خلاف جنگ میں شمولیت اختیار کی ہے

ترکی اور امریکہ نے شام اور ترکی کے درمیان سرحد کی حفاظت کے لیے زیادہ تعاون پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ یہ امکانی طور پر اہم ہے۔ ترکی کی سرحد سے جنگجوؤں، حامیوں، مالی تعاون، سازوسامان اور تیل کی آمد و رفت بڑی تشویش کا باعث رہے ہیں۔

ترکی کی نظر میں صدر اسد کی حکومت کا خاتمہ ضروری ہے اور وہ شام کی خانہ جنگی کو جھگڑے کی جڑ تسلیم کرتا ہے۔ تاحال ترکی نے دولت اسلامیہ کو نظر انداز کر رکھا تھا۔ انقرہ کا خیال ہے کہ دولت اسلامیہ دوسرے درجے کا مسئلہ ہے اور شامی حکومت کے جاتے ہی یہ ختم ہو جائے گا۔

بہرحال ترکی کے اندر حالیہ حملے کے بعد اس کی عبوری حکومت (ترکی میں جون کے انتخابات کے بعد ابھی تک نئی حکومت سازی کی کوششیں جاری ہیں) اپنے موقف کا ازسر نو جائزہ لے سکتی ہے۔

دولت اسلامیہ کے خلاف انقرہ اور واشنگٹن کی مشترکہ کوششوں کے اعلان کے فوراً بعد ترکی نے کرد ورکرز پارٹی پی کے کے کے خلاف حملے کا آغاز کر دیا۔ اس نے اس کی ایک شامی اتحادی وائی پی جی کے خلاف بھی حملہ کیا جو کہ شمالی شام میں دولت اسلامیہ کے خلاف لڑنے والی ایک اہم قوت ہے۔

پی کے کے ایک دہشت گرد تنظیم ہے جو کہ ترکی کے ساتھ ایک عرصے سے بر سرپیکار ہے۔اردوگان حکومت نے تصادم کو ختم کرنے کے لیے ’پی کے کے‘ کے ساتھ کبھی بات کی اور کبھی بات چیت بند کر دی۔ اور آج کل بات چیت بالکل بند ہے۔

ترکی کے حکام کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کے ساتھ اس بات پر اتفاق ہوا ہے کہ ترکی اور شام کی سرحد پر ایک ’سیف زون‘ بنایا جائے۔حکام کے مطابق آہستہ آہستہ اس علاقے میں بے گھر شامی باشندوں کو آباد کیا جائے، جن میں ترکی میں رہنے والے 20 لاکھ شامی بھی شامل ہیں اور اُن میں سے بعض اپنے وطن واپس آنا چاہتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دولت اسلامیہ کا قبضہ کم ہوا ہے لیکن زور نہیں ٹوٹا ہے

اگر اس طرح کا کوئی معاہد ہوا ہے تو ابھی اوباما انتظامیہ نے اس کے بارے میں نہیں بتایا ہے۔

ترکی نے ایک عرصے سے امریکہ پر شام میں ایک سیف زون کے لیے فضائی تحفظ فراہم کرنے پر زور دے رکھا ہے تاکہ اسد حکومت پر دباؤ بڑھا سکے۔ انقرہ کا یہ خیال درست ہے کہ جب تک اسد عہدہ نہیں چھوڑتے اس بڑی جنگ کا کوئی حل نہیں ہے۔

امریکہ کے سامنے ایران اور روس کی رضامندی کے بغیر کوئي قابل عمل سیاسی راستہ نظر نہیں آ رہا ہے کیونکہ یہ دونوں اسد حکومت کے حامی رہے ہیں اس کے ساتھ ہی اسد کا بھی اس سے متفق ہونا ضروری ہے۔

معتدل حزب اختلاف کو فضائی تحفظ فراہم کرنے کا مطلب النصرہ اور حزب اللہ کو بھی فضائی تحفظ فراہم کرنا ہوگا یعنی دشمن کا دشمن جسے امریکہ ابھی تک دشمن تصور کرتا ہے۔ یہ ایک وجہ ہے کہ اوباما انتظامیہ پہلے عراق پر توجہ مرکوز کرنا چاہتی ہے۔ ایران کے بھی جنگ میں شامل ہونے سے جنگ کی حالیہ ترتیب زیادہ واضح ہو گئی ہے۔

قابل عمل طور پر امریکہ نے معتدل حزب اختلاف کو تربیت دینے کا پروگرام تیار کیا ہے لیکن وہاں سے تربیت حاصل کرنے والوں کی رفتار اتنی سست ہے کہ اگر سال نہیں تو ان کے تیار ہونے اور اس جنگ پر اثر انداز ہونے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔

اگر 30 سالہ جنگ کی مثال درست ہے تو یہ پیچیدہ مشرق وسطیٰ کی جنگ تو ختم ہونے سے رہی۔

اسی بارے میں