الجزیرہ کے صحافیوں کے خلاف مقدمے کے فیصلے میں تاخیر

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption مصر کی اپیل کورٹ نے گذشتہ ماہ ان کے خلاف مقدمے کی دوبارہ سماعت شروع کرنے کا حکم دیا تھا

مصر کے ایک عدالت نے اخوان المسلمین کی معاونت کے الزام میں الجزیرہ چینل سے وابستہ تین صحافیوں کے خلاف مقدمے کی دوبارہ سماعت کے بعد فیصلہ تاخیر کا شکار ہو گیا ہے۔

جمعرات کو عدالت نے دوبارہ سماعت کے بعد فیصلہ سنانا تھا لیکن عدالت کا حکام کا کہنا ہے کہ فیصلہ آج نہیں سنایا جائے گا۔

مصری نژاد کینیڈا کے شہری محمد فہمی، آسٹریلوی صحافی پیٹر گریسٹا اور باہر محمد کو سنہ 2014 میں دس، دس سال تک سزا سنائی گئی تھی۔

الجزیرہ چینل نے فیصلے کی تاخیر پر ’شدید غصے‘ کا اظہار کیا ہے۔ تینوں صحافی رواں سال فروری میں ضمانت پر رہا ہوئے تھے۔

آسٹریلوی صحافی پیٹر گریسٹا رہائی پانے کے بعد ملک چھوڑ چکے ہیں تاہم عدالت نے باقی دونوں کے ملک چھوڑنے پر پابندی لگائی ہے۔

پیٹر گریسٹا کا کہنا ہے کہ یہ ’انتہائی حد تک مایوس کن ہے۔‘

محمد فہمی کا کہنا ہے کہ عدالت کے حکام نے انھیں بتایا کہ عدالت کی آج سماعت نہیں ہے۔

گذشتہ سال جون میں الجزیرہ چینل کے ان تین صحافیوں کو جھوٹی خبریں پھیلانے اور کالعدم جماعت اخوان المسلمین کی مدد کے الزامات پر سات اور دس سال کی قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

مصر کی اپیل کورٹ نے گذشتہ ماہ ان کے خلاف مقدمے کی دوبارہ سماعت شروع کرنے کا حکم دیا تھا۔

محمد فہمی، حراست کے وقت الجزیرہ چینل کے قاہرہ میں بیورو چیف تھے۔

انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ جج بین الاقوامی آواز پر ضرور توجہ دیں گے اور فیصلے کی حمایت سے مصر دنیا کی نظروں میں مزید برا ہو گا۔ ’اگر ہمیں دوبارہ جیل میں ڈالا جاتا ہے تو یہ بہت ہی برا ہو گا۔‘

الجزیرہ چینل کے تینوں صحافیوں نے اس بات سے انکار کیا تھا کہ وہ مصر کے سابق صدر محمد مرسی کا تختہ الٹنے کے بعد ممنوعہ تنظیم اخوان المسلمین سے کی مدد کر رہے تھے اور ان کا کہنا تھا کہ وہ صرف خبریں دے رہے تھے۔

اسی بارے میں