ملبے کو شناخت کے لیے فرانس بھیجا جا رہا ہے: ملائیشیا

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

ملائیشیا کے وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ بحرِ ہند کے جزیرے سے ملنے والے جہاز کے ملبے کو فرانس بھجوایا جا رہا ہے تاکہ تعین کیا جاسکے کہ یہ ملبہ ملائیشیا کے جہاز ایم ایچ 370 کا ہے یا نہیں۔

نجیب رزاق کا کہنا تھا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق بدھ کو بحرِ ہند سے ملنے والا دو میٹر لمبا جہاز کا ملبہ بوئنگ 777 کا دکھائی دیتا ہے۔

مارچ سنہ 2014 میں لاپتہ ہونے والے اس طیارے میں اس وقت 239 مسافر سوار تھے۔

نجیب رزاق نے کہا فرانسیسی حکام اس ملبے کو جنوبی شہر تولوز لے کر جائیں گے جہاں اس بات کا جلد سے جلد پتہ لگانے کی کوشش کی جائے گی۔

ملائیشیا کے وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ ملائیشیا کے تفتیش کاروں کی ایک ٹیم کے علاوہ حکومتی نمائندے اور ایئر لائن کی ایک ٹیم بھی تولوز جا رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ہمیں اس بارے میں جیسے ہی مزید معلومات کی تصدیق ہو گی ہم اسے عوام کے سامنے پیش کر دیں گے۔

بدھ کو بحرِ ہند سے ملنے والے جہاز کے ملبے کی تصاویر کے بارے میں ایوی ایشن کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ملبہ بظاہر بوئنگ 777 کا دکھائی دیتا ہے۔

ماہرین کے مطابق تمام ہوائی جہازوں پر ایک خاص نمبر ہوتا ہے جس سے شناخت کرنے میں مدد ملتی ہے۔

مقامی میڈیا کے مطابق جمعرات کو ایک میونسپل ورکر کو ری یونین کے ساحل سے ایک تباہ شدہ سوٹ کیس ملا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

یہ سوٹ کیس سینٹ آندرے کے قریب سے ملا تھا اور یہ وہی جگہ ہے جہاں اس سے پہلے جہاز کا ملبہ ملا تھا۔

آسٹریلیا کی سربراہی میں جاری ملائیشیا ایئر لائن ایم ایچ 370 کی لاپتہ ہونے والی پرواز کو بحرِ ہند سے تقریباً 4,000 کلو میٹر دور ری یونین ساحل کے مشرق میں تلاش کرنے کام جاری ہے۔

آسٹریلیا کی حکومت نے بدھ کو بحرِ ہند سے ملنے والے جہاز کے ملبے کو ’اہم پیش رفت‘ قرار دیا ہے۔

خیال رہے کہ ملائیشیا کی پرواز ایم ایچ 370 گذشتہ برس آٹھ مارچ کو لاپتہ ہوگئی تھی اس میں 239 افراد سوار تھے۔ یہ جہاز کوالالمپور سے بیجنگ جا رہا تھا۔

سنیچر کو ملائیشیا کے ٹرانسپورٹ کے وزیر کا کہنا تھا کہ وہ پراعتماد ہیں کہ ایک سال پہلے لاپتہ ہونے والا طیارے ایم ایچ 370 کو جنوبی بحر ہند میں تلاش کر لیا جائے گا۔

اسی بارے میں