عراق میں بجلی کی بندش کے خلاف احتجاج

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ملک کے کئی حصوں میں ہر روز صرف چند گھنٹوں کے لیے بجلی دستیاب ہونا عام سی بات ہے۔

عراق میں سینکڑوں شہریوں نے ملک میں شدید گرمی کی لہر کے دوران بار بار بجلی بند ہونے کے خلاف بغداد کی سڑکوں پر مظاہرہ کیا ہے۔

انھوں نے حکومت پر الزام لگایا کہ اس کی بدعنوانی کی وجہ سے (بجلی پیدا کرنے والے) بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری میں کمی ہوئی ہے۔

جمعرات کو حکومت نے چار دن کی چھٹی کا اعلان کیا تھا کیونکہ درجۂ حرارت 50 ڈگری سنٹی گریڈ سے زیادہ ہوگیا تھا۔ ساتھ ہی لوگوں سے بجلی بچانے کی اپیلیں کی گئی تھیں۔

عراق میں بجلی کے گرڈ سٹیشن انتہائی درجۂ حرارت میں کام نہیں کر پاتے جس کی وجہ سے بار بار بجلی منقطع ہوتی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جب امریکہ نے سنہ 2003 میں بمباری کی تھی تو ملک کے گرڈ سٹیشن کو بری طرح نقصان پہنچا تھا۔ اس کے بعد سے شورش کرنے والوں نے کی بار بنیادی ڈھانچوں کو بار بار نشانہ بنایا ہے۔

ملک کے کئی حصوں میں ہر روز صرف چند گھنٹوں کے لیے بجلی دستیاب ہونا عام سی بات ہے۔

حکومت نے یہ تسلیم کیا ہے کہ ان اوقات میں جب گرمی عروج پر ہوتی ہے وہ ملک میں بجلی کی ضرورت کا صرف نصف ہی پورا کر پائے گی۔

بدھ کو عراقی وزیرِ اعظم حیدر العبادی نے حکم دیا تھا کہ سرکاری اداروں اور تمام سرکاری اہلکاروں کے گھروں میں بجلی کی فراہمی کم کی جائے۔

تاہم بغداد کی سڑکوں پر نکلے ہوئے مظاہرین اب بھی ناراض ہیں۔

احتجاج کرنے والی ایک خاتون ناہیدہ احمد نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ’ہم ایک ناکام حکومت کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ ایک ایسی حکومت کے خلاف جس نے عوام کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔‘

گزشہ ماہ کے شروع میں بصرہ کے جنوبی شہر میں بجلی کی کمی کے خلاف ہونے والے احتجاج کے دوران ایک شخص ہلاک ہوگیا تھا۔

اسی بارے میں