ترکی کی بمباری، ’کردستان کو میدانِ جنگ سے دور رکھنا ہو گا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ترکی اور مغربی ممالک کی بڑی تعداد پی کے کے کو ایک دہشت گرد تنظیم سمجھتی ہے

عراق کے خود مختار علاقے کردستان کے حکام کا کہنا ہے کہ ترکی کی جانب سے کی جانے فضائی بمباری میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کو روکنے کے لیے ضروری ہے کہ ترکی کے کرد علیحدگی پسند کردستان کا علاقہ چھوڑ دیں۔

یہ مطالبہ ان اطلات کے بعد سامنے آیا ہے جن کے مطابق کردوں کی جماعت ’پی کے کے‘ کے ٹھکانوں پر کی جانے والی ترک فضائیہ کی حالیہ بمباری میں عام شہری ہلاک ہوئے ہیں۔

ترکی کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق ایک ہفتہ قبل شروع کی گئی اس کارروائی میں اب تک شمالی عراق اور ترکی میں 260 کرد جنگجوؤ مارے جا چکے ہیں۔

تاہم ’پی کے کے‘ کی جانب سے ہلاک یا زخمی ہونے والوں کے بارے میں اعداد و شمار سامنے نہیں آئے ہیں۔

واضع رہے کہ ترک فضائیہ نے سرحد کے دونوں اطراف ترکی اور عراق میں علیحدگی پسند کردوں کے ٹھکانوں پر سینکڑوں فضائی حملے کیے ہیں۔

ترکی اس کے ساتھ شام میں دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں پر بھی بمباری کر رہا ہے تاکہ انھیں اپنی سرحد سے پیچھے دھکیل سکے۔

اس سے قبل ترکی شام میں جاری لڑائی میں براہ راست ملوث نہیں تھا۔

مقامی حکام کا کہنا ہے کہ کردستان کے دارالحکومت اربیل کے مشرق میں واقع علاقے ضرکل میں ترک طیاروں کی جانب سے گذشتہ رات کی جانے والی بمباری میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک اور چھ گھر تباہ ہوئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ترکی حالیہ دہشت گردی کے کچھ واقعات کا الزام کردستان ورکرز پارٹی پر عائد کرتا ہے

کردستان کے صدر مسعود بارزانی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ہم ترکی کی اس کارروائی کی مذمت کرتے ہیں جس کی وجہ سے کردستان کے لوگوں کی اموات ہوئی ہیں، اور ہم ترکی سے مطالبہ کر تے ہیں کہ عام شہریوں کو دوبارہ نشانہ نہ بنایا جائے۔‘

اس کے ساتھ انھوں نے ’پی کے کے‘ کے جنگجوؤں پر بھی زور دیا کہ وہ علاقے سے نکل جائیں ان کا کہنا تھا کہ ’ عام شہریوں کی حفاظت کہ پیشِ نظر میدانِ جنگ کو کردستان کے علاقے سے دور رکھنا ہو گا۔‘

بیان میں ترکی کی حکومت اور پی کے کے کے درمیان امن مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔

اس سے قبل ترکی کے صدر طیب رجب اردوغان نے گذشتہ ہفتے ایک بیان میں کہا تھا کہ کرد جنگجوؤں کی جانب سے حملوں کے پیشِ نظر ترکوں اور کردوں کے درمیان جنگ بندی قائم نہیں رہ سکتی۔

واضع رہے کے ترکی اور مغربی ممالک کی بڑی تعداد’ پی کے کے‘ کو ایک دہشت گرد تنظیم سمجھتی ہے۔

اسی بارے میں