دولتِ اسلامیہ کے خلاف لڑائی میں نیٹو عراقی فوج کی مدد پر متفق

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption نیٹو کے رکن ممالک کے اجلاس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ عراقی افواج کی تربیت ترکی اور ادرن میں ہو گی

نیٹو کے رکن ممالک عراق میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے خلاف لڑائی میں مصروف ملکی افواج کو مضبوط بنانے کے لیے اقدامات پر متق ہو گئے ہیں۔

نیٹو کا کہنا ہے کہ عراقی افواج کی معاونت کے معاہدے کے تحت وہ عسکری تربیت، سائبر دفاع اور سکیورٹی کے شعبے میں اصلاحات سمیت تقریبا سات اہم شعبوں میں تعاون کرے گا۔

نیٹو کے رکن ممالک کے اجلاس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ عراقی افواج کی تربیت ترکی اور ادرن میں ہو گی۔

گذشتہ ایک سال کے دوران عراق میں پرتشدد واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور رواں سال جنوری کا مہینہ بہت خونریز ثابت ہوا۔ جنوری 2015 میں گذشتہ چھ سال کے مقابلے میں سب زیادہ ہلاکتیں ہوئیں۔

نیٹو کے سیکریٹری جنرل کا کہنا ہے کہ افواج کے تعاون کا پروگرام عراقی حکومت کی درخواست تشکیل دیا گیا ہے اور اس سلسلے میں گہری مشاورت کے بعد پلان ترتیب دیا گیا ہے۔

سیکریٹری جنرل جین سٹولنبرگ کا کہنا ہے کہ تعاون کے اس منصوبے کے تحت عراق کی سکیورٹی سیکٹرکی تشکیل، بموں کو ناکارہ بنانے کی صلاحیت، عسکری ادویات اور سول ملٹری منصوبہ سازی سمیت دیگر معاملات میں تعاون کیا جائے گا۔

سیکریٹری جنرل نے کہا کہ ’ان تمام اقدامات کے ساتھ ساتھ نیٹو دولتِ اسلامیہ کے خلاف امریکہ اور اُس کے اتحادیوں کے آپریشن، یورپی یونین اور اقوام متحدہ کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔‘

امریکی صدر اوباما نے رواں سال جون میں عراق میں موجود 3100 امریکی فوجیوں کے ساتھ 450 مزید امریکی فوجی بھیجنے کا حکم دیا تھا۔

نیٹو اور عراقی حکومت کے درمیان معاہدے ایسے وقت ہوا ہے جب ترکی نے عراق اور شام میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں میں نیٹو ممالک سے مدد طلب کی ہے۔

اس سے قبل بھی نیٹو کی اتحادی افواج نے عراق کی سکیورٹی فورسز کی تربیت کی ہے لیکن نیٹو افواج کی عراق میں تعیناتی کا معاہدہ نہ ہونے کے سبب سنہ 2011 میں افواج کا انخلا ہو گیا تھا۔

اسی بارے میں