نائجیریا: بوکو حرام کی قید سے 178 افراد کو بازیاب کروانے کا دعویٰ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نائجریا میں سنہ 2014 سے اب تک شدت پسند تنظیم بوکو حرام نے ساڑھے پانچ ہزار افراد کو ہلاک کیا ہے

نائجیریا کی فوج کا کہنا ہے کہ شمالی ریاست بورنو میں شدت پسند تنظیم بوکو حرام کی قید سے 178 افراد کو بازیاب کروایا گیا ہے۔

فوج کی جانب سے اتوار کی شب جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ بوکو حرام کی قید سے بازیاب کروانے والوں میں 101 بچے اور 67 خواتین شامل ہیں۔

بوکو حرام کی قید میں کیا دیکھا؟

بوکو حرام کے قبضے سے ’300 خواتین رہا‘

نائجیریا میں طالبات کے اِغوا کو ایک سال مکمل

فوج کے بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ بازیاب ہونے والوں میں اپریل 2014 میں چیبوک کے سکول کے اغوا ہونے والی لڑکیاں بھی شامل ہیں۔

فوج نے بوکو حرام کے کمانڈر کو حراست لینے اور کئی علاقوں پر قبضہ حاصل کرنے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔

نائجیریا میں سنہ 2014 سے اب تک شدت پسند تنظیم بوکو حرام نے ساڑھے پانچ ہزار افراد کو ہلاک کیا ہے۔

چیبوک کے سکول سے اغوا کی گئی دو سو سے زائد لڑکیاں ایک سال گزرنے کے بعد بھی تاحال لاپتہ ہیں۔ بوکو حرام نے ان لڑکیوں کو سکول پر حملے کے دوران اغوا کیا تھا۔ مغوی بنائی گئی زیادہ تر لڑکیاں عیسائی تھیں۔

گذشتہ سال اکتوبر میں حکومت نے کہا کہ بوکو حرام کے ساتھ جنگ بندی اور لڑکیوں کی رہائی کا معاہدہ ہوا ہے لیکن بوکو حرام نے اس معاہدے کو مسترد کر دیا تھا۔

شمالی ریاست چیبوک کے سکول سے لڑکیوں کے اغوا کے خلاف دنیا بھر میں آواز اُٹھائی گئی تھی اور لڑکیوں کی رہائی کے لیے آن لائن مہم میں ہزاروں افراد شامل ہوئے تھے۔

چین اور امریکہ سمیت مختلف ممالک نے لڑکیاں کی بازیابی کے مدد کی پیشکش کی تھی۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ سنہ 2014 کے بعد سے اب تک اسلامی شدت پسند تنظیم بوکو حرام نے کم سے کم دو ہزار خواتین اور لڑکیوں کو اغوا کیا ہے۔

اسی بارے میں