برطانیہ کا غیر قانونی پناہ گزینوں کو بے دخل کرنے کا منصوبہ

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption سرکش مکان مالکوں کو پناہ گزینوں کے معاملے میں پانچ سال کی سزا ہو سکتی ہے

حکومت برطانیہ نے پناہ گزینوں کے متعلق اپنے ایک منصوبے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت مالکِ مکان پر لازم قرار دیا گیا ہے کہ وہ پناہ کی درخواست مسترد ہونے والے پناہ گزینوں کو اپنے گھروں سے بے دخل کریں۔

وزیر برائے کمیونیٹیز گریگ کلارک کا کہنا ہے کہ جو مالک مکان اپنے پناہ گزین کرایہ دار کی رہائشی حیثیت کی جانچ پڑتال کیے بغیر اپنے مکان کرائے پر دیتے ہیں، انھیں پانچ سال تک کی قید ہو سکتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس مجوزہ قانون کے ذریعے ایسے مکان مالکان کے گرد گھیرا تنگ کیا جائے گا، جو غیر قانونی طور پر ترک وطن کرنے والوں کے ذریعے پیسے بناتے ہیں۔

ان کا یہ بیان فرانس کی کیلے بندرگاہ پر ہزاروں پناہ گزینوں کے ذریعے برطانیہ میں کسی طرح بھی داخل ہونے کی کوششوں پر پائے جانے والے وسیع خدشات کے پیش نظر آیا ہے۔

برطانوی حکومت ملک میں رہنے والے دس ہزار سے زائد پناہ گزینوں کو ان کی درخواست نامنظور ہونے کے باوجود بھی امداد فراہم کرتی ہے کیونکہ وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ برطانیہ میں مقیم ہوتے ہیں۔ انھیں ہر ہفتے 36 پاؤنڈ کا الاؤنس دیا جاتا ہے۔

اتوار کو سویڈن کے وزیر انصاف اور مائگریشن مورگن جوہانسن نے برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کی اس بات پر تنقید کی ہے کہ انھوں نے پناہ حاصل کرنے کے خواہشمند افراد کی درخواست سنے بغیر برطانیہ آنے والے پناہ گزینوں کو غیرقانونی کہا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption امیگریشن کے وزیر گریگ کلارک نے حکومت برطانیہ کے منصوبے کا اعلان کیا ہے

اتوار کو امیگریشن کے وزیر جیمز بروکنشائر نے کہا: ’میں نئے قوانین متعارف کرانا چاہتا ہوں تاکہ ان کی مدد ہو سکے جنھیں واقعتاً اس کی ضرورت ہے، لیکن جو برطانیہ کے نظام کا فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں ان کو یہ واضح پیغام دینا چاہتے ہیں کہ برطانیہ پناہ گزینوں کے لیے کوئی مخملی بچھونا نہیں ہے۔‘

یہ تجاویز ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب برطانیہ اور فرانس کی حکومت کیلے میں جمع پناہ گزینوں کے مسائل کو حل کرنے کی جدوجہد کر رہی ہے۔

اس نئے منصوبے کے تحت وزارتِ داخلہ پناہ گزین کی درخواست نامنظور کیے جانے کی صورت میں نوٹس جاری کرے گا کہ اب انھیں کرایے پر رہنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔

اس طرح بعض معاملات میں بغیر کسی عدالتی حکم نامے کے مکان مالکان کو کرایہ داروں کو نکالنے کا جواز مل جائے گا۔

مکان مالکوں سے یہ بھی کہا جائے گا کہ وہ مکان کرایے پر دینے سے پہلے پناہ گزینوں کے ’کرایہ پر رہنے کے حق‘ کے حوالے سے سرکاری دستاویز ضرور دیکھیں۔

ان دونوں شرائط کا خیال نہ رکھنے والے مکان مالکوں پر جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے یا پانچ سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

Image caption فرانس میں کیلے پر موجود پناہ گزین ہر قیمت پر میں برطانیہ جانے کے درپے ہیں

اس کے علاوہ ’سرکش‘ مکان مالکوں اور کرایہ دلانے والے ایجنٹوں کی بلیک لسٹ تیار کی جائے گی جس سے کونسل کو یہ فیصلہ لینے میں آسانی ہوگی کہ بار بار قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں پر اپنے مکان کرایے پر دینے کی پابندی عائد کر دی جائے۔

ایسے مکان مالکوں کے خلاف بھی بعض طریقہ کار متعارف کرائے جا رہے ہیں جو پناہ گزینوں کی کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہیں یا انھیں خراب فلیٹ اور مکان کرایہ پر دیتے ہیں۔

مسٹر کلارک نے کہا کہ ’حکومت ایسے لوگوں پر نگاہ رکھ رہی ہے جو کمزور لوگوں اور ہمارے امیگریشن قانون کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے پیسہ بناتے ہیں۔‘

اسی بارے میں