تیل کی قیمتیں مزید گرنے کا امکان

تیل کی کمپنی تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption امریکہ کی تیل کی پیداوار ریکارڈ سطح پر ہے

عالمی منڈی میں منگل کو تیل کی قیمتوں میں پانچ فیصد کمی کے بعد معمولی بہتری آئی، لیکن اقتصادی ماہرین عالمی سطح پر تیل کی پیداوار میں متوقع اضافے اور ایشیائی ممالک کی معیشتوں میں کساد بازاری کی وجہ سے تیل کی قیمتوں کے مزید گرنے کی پیشن گوئی کر رہے ہیں۔

تیل برآمد کرنے والے ملکوں کی مجموعی تیل کی پیداوار اس برس جولائی میں گذشتہ کئی برسوں کے مقابلے میں بلند ترین سطح پر رہی۔

ایران اگر اقتصادی پابندیوں کے اٹھائے جانے پر اپنی مجموعی پیداوار میں پانچ ہزار بیرل یومیہ کا اضافہ کرتا ہے تو عالمی پیداوار مزید بڑھ جائے گی۔

ایسے میں جب امریکہ کی تیل کی پیداوار ریکارڈ سطح پر ہے اور چین کی معیشت سست روی کا شکار ہے، پیر کو تیل کی عالمی قیمت گذشتہ چھ برس میں انتہائی کم ہو گئی اور جنوری 2015 کے بعد پہلی مرتبہ برینٹ کی قیمت 50 ڈالر سے بھی نیچے گر گئی۔

گذشتہ ایک دہائی میں تیل کی قیمتیں زیادہ تر وقت 50 ڈالر فی بیرل سے اوپر رہی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption ماہرین کا کہنا ہے کہ پیداوار میں اضافہ ہی تیل کی قیمتوں میں کمی کا باعث ہے

گو کہ منگل کو برینٹ کی قیمت میں 35 سینٹ اضافہ دیکھنے میں آیا اور اس کی قیمت 49.87 رہی اور یو ایس کروڈ کی قیمت میں 0.47 سینٹ کے اضافے سے 45.64 رہی، ماہرین کا خیال ہے کہ قیمتوں میں مزید کمی آئے گی۔

ایک بین الاقوامی تحقیقاتی ادارے کے مطابق ڈالر کی بڑھتی ہوئی قدر، چین کی سست روی کا شکار، معیشت اور ایران کی طرف سے پیداوار میں متوقع اضافہ وہ عوامل ہیں جن سے تیل کی قیمتیں آنے والے چند مہینوں میں دباؤ کا شکار رہیں گی اور اس میں مزید کمی کا امکان ہے۔

بی ایم آئی کا مزید کہنا ہے کہ 2016 میں تیل کی قیمتیں 60 ڈالر فی بیرل کے اردگرد رہیں گی کیونکہ امریکہ میں شیل سے تیل حاصل کرنے والوں کے لیے اس سے کم قیمت منافع بخش نہیں رہتی۔

زیادہ تر ماہرین کا کہنا ہے کہ پیداوار میں اضافہ ہی تیل کی قیمتوں میں کمی کا باعث ہے لیکن طلب میں کمی کی وجہ سے بھی اس کا سبب بن رہی ہے۔

اسی بارے میں