’ہمیں سیسل کا سر واپس چاہیے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption شیر کی ہلاکت کی خبر کو دنیا بھر کی اخباروں میں نمایاں طور پر شائع کیا گیا ہے جس کے بعد شکاری پامر کہیں چھپ گئے ہیں

زمبابوے میں قدرتی وسائل اور ماحول کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے ایک گروپ نے کہا ہے کہ وہ گذشتہ ماہ ہلاک کر دیے جانے والے شیر سِیسل سر قومی پارک میں نمایاں طور پر لگانا چاہتا ہیں۔

زمبابوے میں تحفظِ ماحولیات کی ٹاسک فورس کے چیئرمین جونی روڈریگز کا کہنا ہے کہ سِیسل کا سر تِھیو برونک ہورسٹ کے گھر سے ملا تھا جو شیر کو مارنے کے شریک ملزم ہیں۔

دانتوں کے ڈاکٹر امریکی والٹر پامر نے پچھلے مہینے سیسل کو ’غیر قانونی طور پر‘مارا تھا۔ زمبابوے میں حکام کا مطالبہ ہے کہ ڈاکٹر کو ان کے ملک کے حوالے کیا جائے۔

شیر کی ہلاکت کی خبر کو دنیا بھر کی اخباروں میں نمایاں طور پر شائع کیا گیا ہے جس کے بعد پامر کہیں چھپ گئے ہیں۔

مسٹر روڈریگز نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ منصوبہ یہ بنا تھا کہ شیر کے سر کو پہلے جنوبی افریقہ بھیجا جائے گا اور پھر امریکہ جہاں پامر اس کے مالک بن جائیں گے۔ لیکن سات جولائی کو پولیس نے سیسل کے سر کو برونک ہورسٹ کے گھر سے برآمد کیا۔ برونک ہورسٹ شیر کے غیر قانونی شکار میں پارمر کی رہنمائی کر رہے تھے۔

روڈریگز کے مطابق ’شیر کا سر اب پولیس کے پاس ہے اور وہ اسے ثبوت کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ لیکن ہم حکام کے ذریعے کوشش کریں گے یہ سر ہمیں مل جائے تاکہ اس وانج کے قومی پارک میں بطور یادگار نمایاں طور پر نصب کیا جاسکے۔‘

’ہم اس پارک کے داخلے کے قریب کہیں اسے لگا سکتے ہیں تاکہ لوگ آتے جاتے اسے ہدیۂ عقیدت پیش کر سکیں۔ شیر کا صرف سر اور روئیں والی کھال ہی باقی بچی ہے۔ لاش کو جانور اور گدھ کھا گئے ہیں۔‘

مسٹر روڈریگز نے کہا کہ ٹاسک فورس پیسہ اکٹھا کرے گی تاکہ سیسل کا سر شیشے میں بند کر کے پارک میں لگایا جا سکے اور حالات بہتر ہونے کے بعد زمبابوے کے مختلف پارکوں اور جنگلی حیات سے متعلق حکام سے ایک منصوبے پر بات کی جائےگی۔

وانج کے قومی پارک یا تھانے میں جہاں شیر کے باقیات رکھے گئے ہیں، کوئی اس موضوع بات کرنے کے لیے دستیاب نہیں تھا۔

مسٹر روڈریگز کا کہنا تھا کہ سیسل کی ہلاکت کے بعد شکار کے خلاف بات کرنے پر انھیں بعد بُرا بھلا کہا گیا ہے۔ ’مجھے اپنا فون بند کرنا پڑا۔ شکاری اس معاملے کی آڑ میں میرے پچھے پڑے ہوئے ہیں اور ای میلوں اور ٹیکسٹ پیغامات کے ذریعے مجھے برا بھلا کہہ رہے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ان پر شکار کے نام پر پیسہ لینے کا الزام لگایا گیا ہے جس کی انھوں نے تردید کی۔ ’مجھے شکار سے نفرت ہے اور میں اس کام پر یقین ہی نہیں رکھتا۔‘

مٹسر روڈریگز نے بتایا کہ سیسل کے چھ بچوں کی دیکھ بھال ایک دوسرا شیر جِیریچو کر رہا ہے۔ ’ہمیں صورتِ حال کے خراب ہونے کی توقع ہے کیونکہ دوسرا شیر بچوں کو مار دے گا اور شیرنی کو لے جائے گا۔ پارک کے منتظمین اس پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ جیریچو بچوں کے ساتھ کھیلتا ہے۔ ہم صورتِ حال کی نگرانی کر رہے ہیں اور ابھی سب خوش ہیں۔ سیسل ’روایت‘ بن گیا تھا۔ سیاح اس کے لیے آتے تھے اور مجھے امید ہے کہ ہمیں پھر سے سیاحوں کو واپس بلا سکیں گے۔‘

اسی بارے میں