پر ملائشیا کے جہاز کا ہے یا نہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption بوئنگ 777 جہاز کے پر کے ٹکڑے کو جنوب مغربی فرانس کے شہر تولوز منتقل کیا گیا ہے

چار ممالک کے ماہرین ری یونین جزیرے سے پچھلے ہفتے ملنے والے جہاز کے پر کا جائزہ لیں گےجس کے بارے میں یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ 2014 میں لاپتہ ہونے والی ملائشیئن ایئر لائن کی پرواز ایم ایچ 370 کے طیارے کا ہے۔

سمندر سے ملنے والے بوئنگ 777 جہاز کے پر کے اس ٹکڑے کو جنوب مغربی فرانس کے شہر تولوز منتقل کیا گیا ہے۔

فرانسیسی حکام کی دعوت پر آسٹریلیا کے ایک ٹرانسپورٹ کے ماہر جانچ میں مدد کر رہے ہیں۔ ملائشیا کے ماہرین بھی ان کا ساتھ دے رہے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ وہ بدھ یا اس ہفتے کے آخر میں طیارے پر کے حصے کے بارے میں کچھ بتا سکتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption طیارے کو پیش آنے والے حادثے میں 239 مسافر ہلاک ہو گئے تھے

یہ بات اب تک معلوم نہیں ہو سکی ہے کہ کیا واقعی ملائشیئن ایئر لائن کے طیارے نے بیجنگ کے سفر کے دوران اپنا راستہ تبدیل کیا تھا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ جہاز سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا اور اس حادثے میں 239 مسافر ہلاک ہو گئے تھے۔

تفتیش کاروں کو امید ہے کہ وہ ایم ایچ 370 کی سمندر میں گرتے وقت اس کی رفتار معلوم کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے اور ان معلومات سے ماہرین کو سمندر میں غرق جہاز کے دیگر حصوں کی تلاش میں آسانی ہو گی جو اب تک ڈھونڈے نہیں جا سکے۔

فرانس کی ایجنسی اے ایف پی کے مطابق طیارے کے پر کی جانچ بدھ کی دوپہر شروع کر دی جائے گی، اس میں فرانس اور ملائشیا کے ماہرین کے علاوہ طیارے کے ملازمین اور چینی حکام شریک ہوں گے۔ حادثے میں سب سے زیادہ چینی مسافر ہلاک ہوئے تھے۔

Image caption جنوبی بحرہند کے وسیع علاقے میں تقریباً 4000 مربع کلومیٹر کے علاقے میں طیارے کے ملبے کو تلاش کیا گیا

اے ایف پی کے مطابق ہوائی حادثوں کی تحقیقات کرنے والی فرانس کی بی ای اے ایجنسی کے سابق سربراہ جین پال کا کہنا ہے کہ جانچ میں دو باتوں پر دھیان دیا جائے گا: پہلی یہ کہ کیا یہ ٹکڑا واقعی ایم ایچ 370 کا ہے اور اگر ہے تو کیا اس سے حادثے کے آخری لمحات کے بارے میں کچھ معلوم ہو سکتا ہے؟

پال کا کہنا ہے کہ یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ طیارے کے ٹکڑے پر جو رنگ ہے وہ بوئنگ 777 پر کیا جاتا ہے۔ یہ اب تک کی تحقیقات کا اہم حصہ ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ہر ایئر لائن ایک خاص طریقے سے اپنے طیاروں پر رنگ کرتی ہے اور ملائشین ایئر لائن اور دیگر کمپنیوں نے بھی یہ طریقہ استعمال کیا ہے۔

وہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ اس علاقے میں کوئی اور بوئنگ 777 گر کر تباہ نہیں ہوا۔

پال نے خبردار کیا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ جانچ میں یہ بات نہ معلوم ہو سکے کہ طیارے کو حادثہ کیوں پیش آیا۔ انھوں نے کہا کہ کسی معجزے کی امید نہیں رکھنی چاہیے۔

آسٹریلیا کی سربراہی میں طیارے کی تلاش کے لیے جاری آپریشن میں جنوبی بحرہند کے وسیع علاقے میں تقریباً 4000 مربع کلومیٹر کے علاقے میں طیارے کے ملبے کو تلاش کیا گیا۔

اسی بارے میں