پناہ گزین کی پیدل برطانیہ جانے کی کوشش

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سوڈان کے اس چالیس سالہ شخص کا کوئی مستقل پتہ نہیں ہے اور حکام نے اس کے خلاف ریل کے انجن یا ڈبے کو روکنے کا الزام عائد کیا گیا ہے

برطانیہ اور فرانس کے درمیان ریل گاڑی کی پٹری والی سرنگ چینل ٹنّل میں چلنے والی ٹرین کی منتظم کمپنی یورو ٹنّل کے مطابق سرنگ میں سے ایک ایسے پناہ گزین کو گرفتار کیا گیا ہے جو پیدل سرنگ پار کر کے برطانیہ جا رہا تھا۔

فرانس کی بندرگاہ’کےلے‘ پر جمع پناہ گزین رات کے وقت برطانیہ اور فرانس کےدرمیان واقع رود بار (چینل) کو پار کے برطانیہ پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ برطانیہ اور فرانس دونوں نے صورتِحال پر قابو پانے کا عہد کیا ہے۔

سوڈان سے تعلق رکھنے والا یہ پناہ گزین اس وقت پکڑا گیا جب وہ برطانیہ کی سرحد سے اکتیس میل دور تھا۔

یورو ٹنّل کے ترجمان نے کہا ہے کہ ’یہ شخص پیدل چل کر سرنگ پار کرنے میں تقریباً کامیاب ہو ہی گیا تھا۔‘

یورو ٹنّل نے منگل کو ایک غیر اعلانیہ معائنے کا آغاز کر دیا جس سے مسافروں کو چار گھنٹے تک انتظار کرنا پڑا۔

سوڈان کے اس چالیس سالہ شخص کا کوئی مستقل پتہ نہیں ہے۔ حکام نے اس کے خلاف ریل کے انجن یا ڈبے کو روکنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ ملزم کو جمعرات کو میڈوے میجسٹریٹ کورٹ میں پیش کیا جائے گا۔

یہ واقعہ اسی رات پیش آیا جب دیگر پناہ گزینوں نے چینل ٹنّل میں گھسنے کی چھ سو مرتبہ کوششیں کیں۔ تقریباً ایک سو اسی افراد میں سے بیس کو موقع سے ہی گرفتار کیا گیا ہے۔

تاہم یورو ٹنّل کے حکام کا کہنا ہے کہ منگل اور بدھ کی درمیانی رات برطانیہ داخل ہونے کی کوششیں کم ہو کر چار سو تک ہوگئی ہیں۔ حکام کے مطابق فرانس میں ٹرمینل کو تقریباً محفوظ کر لیا گیا ہے اور پناہ گزینوں کی برطانیہ جانے کی کوششوں کو قابو میں لایا جا رہا ہے۔

حالیہ دنوں میں اس ٹرمینل تک رسائی کی ہزاروں کوششیں ہوئی ہیں اور جون سے اب تک سرنگ میں داخل ہونے والے نو افراد کی ہلاکت بھی ہوئی ہے۔

برطانوی وزیر فلپ ہیمنڈ نے کہا ہے پیر کو حکومت کی ہنگامی حالات پر قابو پانے سے منسلک کوبرا کمیٹی کے اجلاس کے بعد فیصلہ کیا گیا ہے کہ یورو ٹنّل کے ٹرمینل پر ایک سو محافظوں کو تعینات کیا جائے گا۔

ایک اندازے کے مطابق فرانس میں’کے لے‘ کی بندرگاہ کے آس پاس تقریباً تین ہزار پناہ گزین جمع ہیں اور ان میں سے بہت سے اب بھی چنیل ٹنّل کو عبور کر کے برطانیہ جانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ کچھ چھپ کر یورو ٹنّل کی طرف جانے والی لاریوں پر چڑھ جاتے ہیں یا سکیورٹی کی باڑوں سے پار اترنے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ کچھ اسے کاٹ کر یورو ٹنّل میں چھپ کر برطانیہ جانا چاہتے ہیں۔

اسی بارے میں