یمن میں مغوی فرانسیسی خاتون کو بازیاب کروا لیا گیا

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption 30 سالہ اذبیل پرائم یمن میں عالمی بینک کے معاونت سے مکمل ہونے والے منصوبے میں کنسلٹنٹ کی حیثیت سے کام کرتی تھیں

فرانس کا کہنا ہے کہ رواں سال فروری میں یمن سے اغوا ہونی والی فرانسیسی خاتون کو بازیاب کروا لیا گیا ہے اور انھیں جلد فرانس لایا جا رہا ہے۔

فرانس کے ایوان صدر کے مطابق ازابیل پرائم کو جمعرات کو رہا کروایا گیا۔تاہم اُن کی رہائی کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔

30 سالہ ازابیل پرائم یمن میں عالمی بینک کے معاونت سے مکمل ہونے والے منصوبے میں کنسلٹنٹ کی حیثیت سے کام کرتی تھیں اور 24 فروری کو دارالحکومت صنعا جاتے ہوئے اغوا کیا گیا۔

اُن کی مترجم شیرین ماہکوئی کو بھی مغوی بنایا گیا تھا۔ تاہم وہ مارچ میں بازیاب ہو گئی تھیں۔

حالیہ کچھ برسوں کے دوران یمن میں قبائلی جیل میں بند ساتھیوں کی رہائی کے لیے حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے غیر ملکیوں کو اغوا کرتے ہیں۔

رواں سال جون میں فرانس کے حکام نے مس پرائم کے حوالے منظرِ عام پر آنے والے ویڈیو کی تصدیق کی تھی۔ اس ویڈیو میں وہ کافی پریشان لگ رہی تھیں اور سیاہ لباس میں ملبوس ازابیل پرائم نے فرانسیسی صدر سے اور یمن کے حکام سے کہا تھا کہ ’بازیابی کے انتظامات کیے جائیں کیونکہ وہ زیادہ تھک چکی ہیں۔‘

انھوں نے کہا تھا کہ ’میں نے اپنی زندگی ختم کرنے کی کئی بار کوشش کی کیونکہ میں جانتی ہوں کے آپ تعاون نہیں کریں گے۔ میں یہ اچھی طرح سمجھتی ہوں۔‘

رواں سال مارچ میں سعودی عرب نے یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف فضائی آپریشن شروع کیا تھا۔ جس میں اب تک تین ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

امدادی ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے یمن کے فضائی اور سمندری محاصرہ کی وجہ سے انسانی بحران پیدا ہو رہا ہے اورملک کی 80 فیصد آبادی کو امداد کی ضرورت ہے۔

ملک میں جاری لڑائی سے ادوایات، پانی، خوراک اور ایندھن کی قلت ہو گئی ہے۔

اسی بارے میں