بحرین بھارتی مزدور پر تشدد کی ویڈیو سے’صدمے میں‘

تصویر کے کاپی رائٹ youtube
Image caption بحرین کی وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں اس واقعے کی تصدیق کی گئی ہے

بحرین میں سوشل میڈیا پر ایک مقامی شخص کو ایک غیر ملکی مزدور کو تھپڑ مارنے کی ویڈیو شئیر ہونے پر جہاں ملک بھر میں سوشل میڈیا کے صارفین حیران اور پریشان ہیں وہیں ویڈیو کے بعد متعدد افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔

اس واقعے کا ویڈیو کلپ رواں ماہ یوٹیوب پر لوڈ کیا گیا تھا۔27 سیکنڈ دورانیے کے اس کلپ میں سرخ ٹوپی پہنے ایک مقامی شخص کو شکل وصورت سے جنوبی ایشیائی دکھائی دینے والے ایک مزدور کو تھپڑ مارتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

اگرچہ یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ اس کلپ میں کیا کہا جا رہا ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ ویڈیو بنانے والا شخص مزدور کا تمسخر اڑا رہا ہو۔

یہ ویڈیو تقریباً ڈیڑھ لاکھ مرتبہ دیکھی جا چکی ہے۔

اب اس مزدور پر تشدد کرنے والے کی تصاویر سماجی رابطوں کی سائٹس پر گردش کر رہی ہیں۔ ان تصاویر میں یہ مزدور ایک مقامی پولیس سٹیشن کے باہر کھڑا نظر آتا ہے۔

بحرین کی وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں اس واقعے کی تصدیق کی گئی ہے جس کے مطابق ایک ایشیائی باشندے پر رفا کے شہر میں تشدد کیا گیا تھا۔

سماجی رابطوں کی سائٹس پر بحرینی افراد نہ صرف اس واقعے کی مذمت کر رہے ہیں بلکہ غیرملکی مزدوروں کے ملک کی معشیت میں مثبت کردار کو بھی اجاگر کر رہے ہیں۔

یو ٹیوب پر اس ویڈیو پر ایک شخص نے لکھا ہے کہ ’وقت ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا ہے، ایک دن عرب بھارتیوں کے لیے کام کریں گے اور پھر دیکھیں گے کہ بھارتی ان کے ساتھ کیسا سلوک کرتے ہیں۔ اگر آپ کو یقین نہیں ہے تو تاریخ پڑھیں۔‘

ایک اور شخص نے لکھا ہے کہ’ ایک غریب انسان جو اپنا دفاع نہیں کر سکتا، کو تھپڑ مارنا انتہائی گھٹیا کام ہے اور اس کی فلم بنانا اس سے بھی نیچ حرکت ہے۔‘

ملک کے وزیرِ خارجہ شیخ خالد بن احمد الخلیفہ نے اس واقعے پر اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں لکھا ہے کہ ’یہ شخص اپنے ملک اور اپنے پیاروں سے دور بحرین میں کم پیسوں پر انتہائی سخت نوکری کر رہا ہے اور ایک گھٹیا آدمی اس کو تھپڑ مار رہا ہے۔‘

بحرین میں غیر ملکی مزدوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم ’مائیگرینٹ ورکز پروٹیکشن سوسائٹی‘ کی سربراہ مریتا داس کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات پر حکام شاذ ونادر ہی بولتے ہیں۔

بی بی سی سے بات کر تے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’اگرچہ بحرین میں تارکینِ وطن کو کافی آزادی ہے لیکن کم آمدنی والے کارکنوں کے استحصال کا خدشہ رہتا ہے۔یہ لوگ حکام کے ڈر سے زیادتیوں کو رپورٹ نہیں کرتے۔‘

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کے مطابق تقریباً 5 لاکھ تارکینِ وطن کارکن بحرین میں کام کرتے ہیں اور یہ ملک کی نجی افرادی قوت کا 77 فیصد ہیں۔

تنظیم کے مطابق ان میں سے زیادہ تر کا تعلق ایشیائی ممالک سے ہے اور ان کو اکثر تنخواہ نہ ملنے، پاسپورٹ ضبط ہونے، غیر مناسب رہائش، تشدد اور طویل کام کرنے کے اوقات جیسے مسائل کا سامنا رہتا ہے۔

اسی بارے میں