’دولت اسلامیہ‘ کےخلاف لڑنے کے خواہشمند کی ضمانت منظور

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے خلاف لڑائی میں کرد فورسز کا ساتھ دینے کے لیے عراق جانے کے کوشش کرنے کے الزام میں گرفتار آسٹریلوی شہری کو ضمانت مل گئی۔

28 سالہ جمی ولیمز کو دسمبر میں میلبرن کے ہوائی اڈے پر اس وقت روک لیا گیا تھا جب وہ قطر جانے والی پرواز میں سوار ہونے کی کوشش کررہے تھے۔

انھوں نے حکام کو بتایا تھا کہ ان کی آخری منزل شمالی عراق ہے۔

ولیمز نے جمعرات کو میلبرن کی ایک عدالت کو بتایا کہ وہ اپنی فوجی تربیت کو آزمانا چاہتے تھے۔

آسٹریلوی اخبار ہیرالڈسن کے مطابق ولیمز نے مبینہ طور پر لکھا کہ ’میں وہاں فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہوں۔‘

آسٹریلوی قانون کے مطابق شدت پسند تنظیموں کی حمایت کے لیے شام یا عراق کا سفر کرنا جرم ہے، جس کی زیادہ سے زیادہ سزا عمرقید ہے۔

میلبرن کے ہوائی اڈے پر روکے جانے کے سات ماہ بعد انھیں اس الزام کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔

میلبرن کی مجسٹریٹ عدالت میں دائر چارج شیٹ کے مطابق ولیمز ایک دوسرے ملک میں مخالف سرگرمیوں کی نیت کے ساتھ داخل ہونے کی تیاری کر رہے تھے۔

آسٹریلیا چھوڑنے سے قبل ان کے سامان سے مبینہ طور پر جنگی لباس اور سازوسامان برآمد ہوا تھا۔

آسٹریلوی حکومت کے مطابق اس کے دو سو سے زائد شہری مشرق وسطیٰ میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ جیسی دیگر مسلح تنظیموں کے ہمراہ لڑ رہے ہیں یا آسٹریلیا کے اندر سے اُن کی حمایت کر رہے ہیں۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ کچھ آسٹریلوی شہری شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے خلاف لڑائی میں کرد فورسز کا ساتھ دے رہے ہیں۔

مقامی میڈیا کے مطابق کوینزلینڈ آرمی کے سابق سپاہی28 سالہ ایش جونسٹن اور 23 سال کے ریس ہارڈنگ لڑائی میں ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں