یونان: بیل آوٹ پیکج کی اصلاحات پر ووٹنگ سے قبل گرما گرم بحث

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption یونان کے وزیراعظم کا کہنا ہے کہ وہ پر امید ہیں اور اس معاہدے سے یونان میں اقتصادی استحکام آئے گا

یونان کی پارلیمان میں بیل آوٹ پیکج کے تحت اصلاحات کی مظوری کے لیے رائے شماری ہونے سے قبل ایوان میں گرما گرم بحث جاری ہے۔

یونان اور قرض دہندگان کے درمیان مجوزہ قانون میں ٹیکسوں کی شرح میں تبدیلی، سرکاری ملازمین کو ملنے والی مراعات میں ردوبدل کرنے کے بارے میں اصلاحات شامل ہیں۔

حکمران جماعت سائیزا پارٹی میں اس معاملے پر اختلافات رائے پائی جاتی ہے لیکن امکان ہے کہ یہ مجوزہ قانون پارلیمان سے منظور کروا لیا جائے۔

یونان کے وزیراعظم الیکسیس تیسپیرس کا کہنا ہے کہ وہ پر امید ہیں اور اس معاہدے سے یونان میں اقتصادی استحکام آئے گا۔

انھوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ یونان کے رکنِ پارلیمان یورو زون کے ساتھ طے پانے والی مفاہمت کی یاداشت کی ووٹ کے ذریعے توثیق کریں۔اس معاہدے کے ذریعے یونان کو 85 ارب یورو ملیں گے۔

یونان کو آئندہ کچھ روز میں مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ اُسے 20 اگست کو یورپی سینٹرل بینک کا تین ارب 20 کروڑ یورو کا قرض ادا کرنا ہے۔

اس سے قبل بیل آؤٹ پیکج کے تحت متعارف کروائی گئی اصلاحات پر کروائی گئی ووٹنگ میں مسٹر تیسپیرس کو اپنے جماعت کی طرف سے مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔حکمران جماعت کے 149 رکنِ پارلیمان میں سے 30 اراکین نے اصلاحات کے خلاف ووٹ دیا تھا۔

جمعرات کو ایوان میں پیش کیے گئے بل پر نو گھنٹے تک بحث ہوئی۔

حکمران جماعت سے تعلق رکھنے والے پارلیمان کے سپیکر اور سابق وزیر خزانہ یانس واروفیکس کا اصرار ہے کہ حکومت انتخابی وعدے پورے کرتے ہوئے اخراجات میں کمی اور ٹیکسوں میں اضافہ واپس لے۔

امید ہے کہ اراکینِ پارلیمان حزبِ مخالف کی جماعتوں کے تعاون سے قرض دہنگان کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کو منظور کر لیں گے۔

دوسری جانب مالی سال کی دوسری سہ ماہی میں یونان کی معیشت نے اعشاریہ آٹھ فیصد کی شرح سے ترقی کی ہے لیکن معیشت کا ججم کم ہوا ہے۔

امکان ہے کہ رواں مالی سال کے دوران یونان کی معیشت 2.1 فیصد سے 2.3 فیصد تک سکڑے گی۔

اسی بارے میں