بغداد کے بازار میں ٹرک بم دھماکہ، 59 افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption دھماکہ مقامی وقت کے مطابق صبح چھ بجے ایک ریفریجریٹر لے جانے والے ٹرک پر ہوا

عراق میں حکام کے مطابق دارالحکومت بغداد کے ایک بازار میں ہونے والے ایک ٹرک بم دھماکے میں 50 سے زائد افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔

حکام کے مطابق یہ دھماکہ بغداد کے شمال مشرق میں واقع شیعہ اکثریت علاقے صدر سٹی کے جمیلہ بازار میں جمعرات کی صبح ہوا۔

شدت پسند گروپ دولتِ اسلامیہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے اور کہا ہے کہ اس کا ہدف شیعہ ملیشیا کے ارکان تھے۔

عراق کی پولیس اور طبی حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ دھماکے میں کم سے کم 59 افراد ہلاک اور 89 زخمی ہوئے ہیں۔

ایک عینی شاہد نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ دھماکہ مقامی وقت کے مطابق صبح چھ بجے ایک ریفریجریٹر لے جانے والے ٹرک پر ہوا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption دھماکہ صدر سٹی میں ہوا جو شیعہ اکثریتی علاقہ ہے

عراق کے وزیرِ اعظم حیدر العبادی کے اقتدار سنبھالنے کے بعد یہ بغداد میں ہونے والے سب سے مہلک دھماکوں میں سے ایک تھا۔

ٹوئٹر پر دولتِ اسلامیہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ٹرک میں نصب بم کا ہدف مہدی آرمی کے جنگجو تھے جو شمالی اور مغربی عراق میں اس شدت پسند تنظیم سے برسرِپیکار ہیں۔

بغداد میں حالیہ چند ماہ میں بم دھماکوں میں درجنوں افراد مارے جا چکے ہیں۔ شہر میں مئی اور جولائی میں دو بڑے ہوٹلوں کے باہر کار بم دھماکے ہوئے تھے۔

اسی بارے میں