تیانجن دھماکوں کی شدت زلزلوں جیسی

تصویر کے کاپی رائٹ

چین کے شمالی شہر تیانجن میں بدھ کے روز ہونے والے دھماکوں کی ان کی شدت کے باعث زلزلے کے برابر قرار دیا جا رہا ہے۔

چین کے قومی زلزلہ نیٹ ورک کے ایک سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ سائنسدانوں نے پہلے ہی اس نوعیت کے دھماکوں کے ’خطرے سے آگاہ‘ کر دیا تھا۔

سرکاری اہلکار نے تصدیق کی کہ پہلے دھماکے سے آنے والے جھٹکے تین ٹن ٹرائی نائیٹرو ٹولیون (ٹی این ٹی) سے ہونے والے دھماکوں کے برابر تھے۔ جبکہ دوسرے دھماکے کی شدت پہلے دھماکے سے سات گُنا زیادہ تھی جو 21 ٹن ٹی این ٹی کے برابر ہے۔

دھماکے کی شدت بندرگاہ پر واقع گودام سے کئی کلومیٹر دور کے علاقے تک محسوس کی گئی جہاں دھماکہ خیز مواد موجود تھا۔ دھماکے کے باعث شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

سماجی رابطے کی چینی ویب سائٹ ویبو پر ایک شہری کا کہنا تھا کہ ’گذشتہ رات دھماکے کی آواز سے میں اور میری بہن جاگ گئے اور شدید خوفزدہ ہو گئے۔ ہم اپنے کمبل کے اندر چھپ گئے اور ہمیں لگا کہ یہ زلزلہ ہے یا پھر ایٹم بم گرایا گیا ہے۔ میری نیک خواہشات اور دعائیں مرنے والوں کے ساتھ ہیں۔‘

خبر رساں ادارے روئٹرز نے دھماکے کے مقام سے چار کلومیٹر دُور رہنے والے ایک شہری گوان ژیانگ کے تاثرات کے متعلق لکھا کہ ’میں سو رہا تھا کہ اچانک ہمارے دروازے اور کھڑکیاں ہلنے لگے اور ایک دھماکے کی آواز سُنائی دی۔پہلے مجھے لگا کہ یہ زلزلہ ہے۔‘

چین کے قومی زلزلہ نیٹ ورک کے ویبو پر موجود سرکاری انتظامی اکاؤنٹ کے مطابق پہلے دھماکے کی شدت 2.3 جبکہ دوسرے دھماکے کی شدت 2.9 تھی۔

حتیٰ کہ امریکی ارضیاتی سروے نے بھی دھماکوں کو زلزلے کے برابر قرار دیا ہے۔ برطانوی اخبار گارڈیئن نے لکھا کہ امریکی ارضیاتی سروے کے ماہرِ ارضیات جان بیلینی کے مطابق تیانجن دھماکے سے پہلے بہت کم ایسے دھماکے ہوئے ہیں جن سے زلزلوں جیسی صورتحال پیدا ہوئی ہو۔

اسی بارے میں