برازیل: ساؤ پاؤلو میں فائرنگ کے واقعات میں 18 ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ساؤ پاؤلو میں گذشتہ ہفتے دو پولیس اہلکاروں کو ہلاک کر دیا گیا تھا

برازیل کے سب سے بڑے شہر ساؤ پاؤلو میں مسلح افراد نے ایک رات کے دوران مختلف واقعات میں فائرنگ کر کے کم سے کم 18 افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔

ساؤ پاؤلو میں عینی شایدین کا کہنا ہے کہ مسلح افراد نے ماسک پہن رکھی تھی۔

اطلاعات کے مطابق مسلح افراد نے فائرنگ کرنے سے پہلے متاثرہ افراد کے ناموں کو چیک کیا یا ان سے پوچھا کہ آیا ان کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ تو نہیں ہے۔

ساؤ پاؤلو کے حکام ان واقعات میں ٹارگٹ کلنگ کے امکان پر تفتیش کر رہے ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے ہلاکتیں ہر اعتبار سے انتقامی کارروائی نظر آ رہی تھی جنھیں شاید ڈیوٹی ختم کر کے آنے والے پولیس اہلکاروں یا محافظوں نے منشایات کے بیوپاری یا معروف مجرموں کے خلاف انجام دیا تھا۔

واضح رہے کہ ساؤ پاؤلو میں گذشتہ ہفتے دو پولیس اہلکاروں کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ان واقعات میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد گذشتہ واقعات کے مقابلے کہیں زیادہ ہے۔

ایک فورنسک ماہر نے ساؤ پاؤلوکے اخبار فولہا کو بتایا کہ انھوں نے شہر میں ایک رات کے دوران اتنے افراد کو کبھی مرتے نہیں دیکھا۔

فائرنگ کے یہ واقعات ساؤ پاؤلو کے اوساسکو اور باروری کے علاقوں میں ہوئے جبکہ ان میں چھ افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔

ویڈیو فوٹیج میں دکھائے جانے والے مناظر میں مسلح افراد کو ایک گاڑی سے نکل کر اوساکو کی بار میں فائرنگ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جہاں 10 افراد ہلاک ہوئے۔

ساؤ پاؤلو کے سکیورٹی سیکریٹری الیگزینڈر ڈی موراس کا کہنا ہے کہ یہ بہت سنگین مسئلہ ہے اور اس کے لیے خاص تفتیش کی ضرورت ہے۔

حکام نے ان حملوں کی تحقیقات کے لیے پولیس کے 50 اہلکاروں کی ٹاسک فورس قائم کی ہے۔

اسی بارے میں