ہوانا میں امریکی سفارتخانے میں پرچم کشائی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption امریکی پرچم پیش کرنے والے وہی امریکی فوجی تھے جنھوں نے 1961 پرچم اُتارا تھا

امریکہ نے 54 سال سے زائد گزرنے کے بعد کیوبا میں اپنا سفارت خانہ ایک بار پھر کھول دیا ہے۔

سفارت خانہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی بحالی کی علامت کے طور پر کھولا گیا ہے۔

ہوانا میں ہونے والی تقریب کی صدارت امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کی۔ کسی بھی امریکی وزیر خارجہ کا 70 سالوں میں کیوبا کا یہ پہلا دورہ ہے۔

امریکی پرچم پیش کرنے والے وہی امریکی فوجی تھے جنھوں نے 1961 پرچم اُتارا تھا۔

کیری کا کہنا تھا کہ امریکی انتظامیہ کیوبا پر سے تجارتی پابندیاں اُٹھانا چاہتی تھی۔ ان پابندیوں کے خاتمے میں اس وقت سب سے بڑی رکاوٹ ریپبلکن اکثریتی امریکی کانگریس ہے۔

کیوبا کے سابق رہمنا فیڈل کاسترو نے جمعرات کو ایک کھلے خط میں لکھا ہے کہ 53 سالہ پابندی کی وجہ سے امریکہ، کیوبا کا کئی ملین ڈالرز کا مقروض ہے۔

کیری نے جمعہ کو تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پرچم کشائی کے حوالے سے کہا کہ یہ ایک ’تاریخی لمحہ‘ ہے۔

لیکن اس کے ساتھ ہی انھوں نے خبردار بھی کیا کہ کیوبا میں سیاسی تبدیلی کے لیے، امریکہ اپنا دباؤ برقرار رکھے گا۔

سفارت خانے کے باہر جمع ہونے والے سینکڑوں لوگوں سے انھوں نے کہا کہ ’کیوبا کی عوام کی صحیح خدمت اصل جمہوری نظام ہی کر سکتا ہے، ایسا نظام جہاں عوام کو اپنے رہنما منتخب کرنے کی آزادی حاصل ہو۔‘

کیری نے کہا کہ جب تک لوگوں کو سیاسی آزادی دینے کے لیے کام نھیں شروع ہوتا کانگریس اقتصادی پابندیاں نھیں اُٹھائے گی۔

انھوں نے تسلیم کیا کہ ماضی میں امریکی پالیسیاں جمہوریت کی بحالی میں ناکام رہی ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’کیوبا کے مستقبل کا انحصار اُس کی عوام پر ہے۔‘

کیری اور اُن کے ہم منصب، بُرونو روڈ ریگز، نے تعلقات کی مکمل بحالی کے لیے ایک مشترکہ کمیشن بنانے کا بھی اعلان کیا۔

کیوبا نے گذشتہ ماہ امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں اپنا سفارت دوبارہ کھولا تھا۔

گذشتہ سال دسمبر میں کیوبا کے راہنما راؤل کاسترو اور امریکی صدر براک اوباما نے تعلقات کی دوبارہ بحالی پر اتفاق کیا تھا۔

کیوبا پر عائد سفری اور تجارتی پابندیوں میں اگرچہ کہ نرمی کردی گئی ہے تاہم ری پبلکن اکثریتی، امریکی کانگریس نے تجارت پر سے مکمل پابندی نھیں اُٹھائی ہے۔ یہ پابندیاں 1960 میں امریکہ نےاُس وقت کی کمیونسٹ حکومت پر لگائی تھیں۔

کیری کے کیوبا کے دورے کو کئی اہم ری پبلکن رہنماؤں کی جانب سے تنقید کا سامنا ہے۔ ری پبلکن صدارتی امیدوار جب بش نے کہا کہ یہ ’اوباما انتظامیہ کی طرف سے فیڈل کاسترو کے سفاک ماضی پر خاموشی کی شکل میں، اُن کی سالگرہ پر ایک علامتی تحفہ تھا۔‘

جب بش اور ایک اورصدارتی امیدوار، کیوبن نژاد فلوریڈا کےامریکی سینیٹر، مارکو رُوبیو نے امریکی وزیرخارجہ کو تقریب میں کیوبن حکومت کے مخالفین کو نہ بلانے پربھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ کیری نے کا کہنا تھا کہ جمعہ کو تقریب کے بعد مخالفین کے ساتھ اُن کی الگ ملاقات طے تھی۔

کیوبا کا کہنا ہے کہ تعلقات کی مکمل بحالی پابندیوں کے خاتمے کے بعد ہی ممکن ہے۔

فیڈل کاسترو کا خط اُن کی 89 ویں سالگرہ کے موقع پر سرکاری روزنامے گرانما میں شائع ہوا تھا۔

اپنے خط میں کاسترو نے ’ کیوبا امن کا خواہاں‘ ہونے کے عزم کا اظہار کیا۔ لیکن اس کے ساتھ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’تمام انسانوں کی فلاح و بہبود اور امن کے لیے ہماری لڑائی جاری رہے گی، خواہ اُن کا تعلق کسی بھی نسل، رنگت یا ملک سے ہو۔‘

1959 کے انقلاب سے 2006 تک فیڈل کاسترو نے اپنے ملک کی قیادت کی۔ 2006 میں صحت کے باعث وہ اپنے عہدے سے الگ ہوگئے تھے۔

حکومت کی باگ ڈور انھوں نے اپنے چھوٹی بھائی راؤل کے حولے کردی تھیں جنھوں نے کئی اقتصادی اصلاحات کا آغاز کیا۔

اسی بارے میں