یورپی یونین کی سرحدوں پر تارکینِ وطن کا بحران

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption جرمنی کا کہنا ہے کہ پناہ کی درخواست کرنے والے تارکینِ وطن کی تعداد ساڑھے سات لاکھ تک پہنچ سکتی ہے

یورپی یونین کی سرحدوں پر گذشتہ ماہ کے دوران ایک لاکھ 7500 تارکینِ وطن داخل ہوئے ہیں جس کے پیشِ نظر سرحدی ایجنسی فرنٹکس نے ممبر ممالک سے کہا ہے کہ تارکینِ وطن کا بوجھ ملکر بانٹیں۔

جرمنی کا کہنا ہے کہ وہاں شامی اور بلقانی تارکینِ وطن کی بڑی تعداد پہنچی ہے جس کے بعد پناہ طلب کرنے والوں کی تعداد ساڑھے سات لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔

خیال رہے کہ یورپی یونین حالیہ کئی مہینوں سے تارکینِ وطن کی آمد کے بعد پیدا ہونے والی صںورتحال سے نمٹنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ادھر فرانس اور برطانیہ نے کہا ہے کہ وہ کیلے میں اس بحران سے نمٹنے کے لیے ایک معاہدہ کریں گے۔

موسم گرما کے دوران ہزاروں تارکینِ وطن نے فرانس اور برطانیہ کو ملانے والی چینل ٹنل کے ذریعے برطانیہ میں داخل ہونے کی کوشش کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption تارکینِ وطن کے لیے عارضی رہائش گاہیں

فرانسیسی وزیرِ داخلہ برنرڈ کازنوف نے اپنی برطانوی ہم منصب تھریسا مے سے کہا ہے کہ وہ دونوں ملکوں کی سکیورٹی، انسانی سمگلنگ اور دیگر جرائم اور خفیہ طریقے سے آنے والے تارکینِ وطن سے نمٹنے کے لیے دوطرفہ تعاون کی خاطر جمعرات کو معاہدہ کریں گے۔

خیال رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں برطانیہ نے کیلے کی بندرگاہ کو محفوظ بنانے کے لیے سنہ 2014 میں قائم کیے جانے والے فنڈ میں ایک کروڑ پاؤنڈ دیے ہیں۔

تارکینِ وطن کے لیے وہاں موجود کیمپ کو نیو جنگل بھی کہا جاتا ہے۔

یورپی یونین کی سرحدی ایجنسی فرنٹکس کا کہنا ہے کہ ایک ماہ کے دوران وہاں آنے والےتارکینِ وطن کی تعداد ایک لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔ جو سنہ 2008 میں ان کی جانب سے اعدادو شمار ریکارڈ کیے جانے کے بعد سب سے زیادہ ہے۔

Image caption جرمنی کا کہنا ہے کہ رواں برس آنے والے ترکینِ وطن کی تعداد ساڑھے چھ لاکھ سے بھی بڑھ سکتی ہے

پولینڈ کی ایک ایجنسی کی جانب سے جاری کیے جانے والے بیان میں بتایا گیا ہے کہ جون میں 70 ہزار سے زائد تارکینِ وطن آئے تھے جبکہ جولائی میں یہ تعداد ایک لاکھ 7500 تک پہنچ گئی ہے۔

اس سے قبل جرمنی کی حکومت نے کہا تھا کہ رواں سال وہاں پناہ کی تلاش میں آنے والوں کی تعداد ساڑھے چار لاکھ تک ہو سکتی ہے تاہم اب یہ اندازہ ہے کہ یہ تعداد ساڑھے چھ لاکھ سے بھی بڑھ سکتی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے کمشنر برائے مہاجرین انیٹونیو گوٹریس نے کہا ہے کہ یورپ کے دیگر ممالک کو اس بوجھ کو بانٹنا چاہیے۔

جرمنی کے اخبار ڈائے ویلٹ سے گفتگو میں کہا کہ مستقبل میں زیادہ عرصے صرف دو یورپی ممالک جرمنی اور سویڈن کے لیے زیادہ تارکینِ وطن کو سھنبالنا مشکل ہو جائے گا۔

ہنگری کی جنوبی سرحد یورپی ممالک کی فری پاسپورٹ زون کے ساتھ واقع ہے اور بہت سے تارکین وطن وہیں سے یورپی یونین میں داخلے کی کوشش کرتے ہیں۔

حکومت نے کہا ہے کہ وہ اپنے سربیا کے ساتھ اپنی جنوبی سرحد پر تارکینِ وطن کی آمد روکنے کے لیے ہزاروں پولیس افسران تعینات کرے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption رواں برس دو لاکھ 40 ہزار افراد نے بحیرہ روم کو عبور کیا اور دیگر ممالک کا رخ کرنے سے قبل یونان اور اٹلی کے ساحلوں پر پہنچے

بی بی سی کی نامہ نگار جینی ہل کی جرمنی میں عراق سے فرار ہونے والے یزیدی خاندان سے ملاقات ہوئی۔ جس کا کہنا تھا کہ وہ تمام عورتوں کو مار رہے تھے ایسے میں ہم کیا کرتے؟

قریب ہی ایک کنکریٹ کی عمارت کے باہر سینکڑوں لوگ قطار میں کھڑے ہیں۔ گاہے بگاہے وہاں ایک افسر باہر آتا ہے اور میگا فون پر چیخ کر ہدایات دیتا ہے۔

برلن میں موجود ایک سینٹر کے ریسیپشن پر اپنی رجسٹریشن اور دیگر سہولیات کے حصول کے لیے مہاجرین موجود تھے۔ لیکن وہاں رضاکار خوراک، پانی، کپڑے اور ادویات فراہم کر رہے تھے۔

اعدادوشمار کے مطابق رواں برس دو لاکھ 40 ہزار افراد نے بحیرہ روم کو عبور کیا اور دیگر ممالک کا رخ کرنے سے قبل یونان اور اٹلی کے ساحلوں پر پہنچے۔

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ صرف گذشتہ ایک ہفتے کے دوران یونان میں داخل ہونے والے تارکینِ وطن کی تعداد 21000 ہے۔

جرمنی کے وزارتِ داخلہ حکام کا کہنا ہے کہ شمالی شہر ہیمبرگ میں گذشتہ ماہ 5700 افراد نے پناہ کی درخواست دی تھی جبکہ ملک کی جنوب مغربی ریاست بیڈن ورٹم برگ میں ایسی ہی درخواست دینے والوں کی تعداد 7065 تھی۔

جرمنی کا کہنا ہے کہ سنہ 1992 مییں بوسنیا میں بحران کے بعد یہاں پناہ کی تلاش میں آنے والوں کی تعداد ساڑھے چار لاکھ سے کم تھی جبکہ حالیہ اعدادوشمار اس سے کہیں زیادہ ہیں۔

جرمنی کے دیہات اب خیموں کے شہر بن چکے ہیں تاہم وہاں پناہ کی تلاش میں آنے والوں پر حملوں کے باعث صورتحال کشیدہ ہے۔

مشرقی حصوں میں ہزاروں مقامی افراد نے اپنے علاقوں میں تارکینِ وطن کی موجودگی پر احتجاجی مارچ کیا وہ اسے مغرب کی اسلامائزیشن قرار دے رہے ہیں۔

گذشتہ ماہ یورپی یونین میں شامل ممالک نے اٹلی اور یونان میں آنے والے 32000 پناہ گزینوں کو اپنے یہاں جگہ دینے پر آمادگی کا اظہار کیا تھا۔ برطاینہ اس معاہدے سے مستثنٰی ہے۔

اسی بارے میں