امریکی خواتین فوج کی مشکل ترین تربیت میں کامیاب

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption صدر براک اوباما نے فوج کو 2016 تک لڑاکا رجمنٹوں میں خواتین کی بھرتی پر پابندی ختم کرنے کا حکم دیا ہے

دو امریکی خواتین نے امریکی فوج کے مشکل ترین تربیتی پروگرام میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔ البتہ جمعے کے دن گریجویشن حاصل کرنے والی یہ خواتین اپنی رجمنٹ میں فوراً شامل نہیں ہو سکیں گی۔

امریکہ میں ابھی تک خواتین پر فوج کی لڑاکا رجمنٹوں میں شمولیت اختیار کرنے کی پابندی عائد ہے۔

صدر براک اوباما نے فوج کو سنہ 2016 تک یہ پابندی ختم کرنے کا حکم دیا ہے جس کے نتیجے میں اس سال خواتین کے پہلے بیچ نے لڑاکا تربیت حاصل کی ہے۔ فوج کے سیکریٹری جان میک ہیو کا کہنا تھا کہ اس کورس نے ثابت کر دیا ہے کہ بلا امتیاز جنس کوئی بھی سپاہی اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر سکتا ہے۔

فوج کے ترجمان نے خواتین کے نام نہیں بتائے لیکن کہا کہ یہ امریکہ کی معروف ویسٹ پوئنٹ اکیڈمی کی گریجویٹ ہیں۔

61 دن کی اس مشکل ترین تربیت کے آغاز پر کورس میں 380 مرد اور 19 خواتین شامل تھیں، تاہم کورس کو ختم کرنے میں صرف 92 مرد اور دو خواتین کامیاب ہوئیں۔

کورس میں جسمانی تربیت کا مرحلہ اتنا کٹھن ہے کہ آدھے سے زیادہ امیدوار پہلے چار دنوں میں ہی ناکام ہو جاتے ہیں۔

کیڈیٹ اکثر دن میں 20 گھنٹوں تک تربیت کرتے ہیں اور انھیں مختصر وقت کے لیے نیند نصیب ہوتی ہے۔

خواتین کی بھرتی کے بعد فوج کو اس بات پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے کہ تربیت کے معیار میں نرمی کی گئی ہے لیکن فوج نے اس بات کی تردید کی ہے۔ آرمی چیف آف سٹاف جنرل ریمنڈ اوڈیرنو نے واشنگٹن پوسٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’خواتین نے سب کو حیران کیا ہے، ان میں بہت جذبہ ہے اور ہم اپنے سپاہیوں سے آخریہی چاہتے ہیں۔‘

فی الحال امریکی فوج میں خواتین کی تعداد 15 فیصد ہے۔ نئے نظام کے تحت خواتین فوج میں 91000 اضافی ملازمتوں کے لیے اہل ہو جائیں گی۔

اسی بارے میں