وائٹ ہاؤس میں خواجہ سرا کی نوکری

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption فریڈ مین اس سے قبل مخنثوں کے مساویانہ حقوق کے قومی ادارے (این ٹی سی ای) میں بطور مشیر کام کرتی تھیں

وائٹ ہاؤس کے افسران نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ انہوں نے پہلی مرتبہ ایک خواجہ سرا کو دفتر کے عملے کے کل وقتی رکن کے طور پر ملازمت دی ہے۔

رفی فریڈمین گرسپین نے منگل سے صدر کے دفتر میں بطور آؤٹ ریچ اینڈ ریکروٹمنٹ ڈائریکٹر کا کام شروع کر دیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ایک سینیئر افسر کا کہنا ہے کہ مخنثوں کے حقوق کے لیے رفی کا عزم ’اس انتظامیہ کی اقدار‘ کی عکاسی کرتا ہے ۔

یہ صدر براک اوباما کا ہم جنس پرستوں اور خواجہ سراؤں کے حقوق کے لیے ایک نیا قدم ہے۔

صدر کی ایک سینیئر مشیر ویلیری جیریٹ کا کہنا ہے کہ رفی فریڈ مین گرسپین جس رہنمائی کا مظاہرہ کر رہی ہیں اس پر ہماری انتظامیہ کو فخر ہے۔‘

فریڈ مین اس سے قبل خواجہ سراؤں کے مساویانہ حقوق کے قومی ادارے (این ٹی سی ای) میں بطور مشیر کام کرتی تھیں۔

ہم جنس پرسوں اور خواجہ سراؤں کے حقوق کی تنظیم ایل جی بی ٹی کے اہم ارکان نے وائٹ ہاؤس میں رفی کی تقرری کو ایک اہم اقدام کے طور پر سراہا ہے۔

ہم جنس پرستوں کی فلاح و بہبود کے ادارے کی سربراہ عائشہ مودی ملز کا کہنا ہے کہ ’ہماری حکومت اس وقت بہترین کام کرتی ہے جب وہ اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ ہم بہ حیثیت امریکی کون ہیں۔‘

امریکہ کی وزارت دفاع مخنث مردوں اور عورتوں کے فوج میں ملازمت پر ممانعت کے قانون میں تبدیلی پر غور کر رہی ہے۔

وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ وہ اس تبدیلی کا خیر مقدم کرتا ہے۔