یمن: ’پانچ ماہ میں 400 بچے ہلاک، ایک کروڑ امداد کے منتظر‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ’یہ تنازع یمن کے بچوں کے لیے خاص طور پر المناک ہے ۔۔۔ (وہ) بم حملوں یا پھر گولیوں کا شکار ہورہے ہیں۔ جو بچے بچ جاتے ہیں اُن کو بیماریوں اور غذائی قلت کا خطرہ ہے‘

اقوامِ متحدہ کی بچوں کی تنظیم یونیسیف کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق یمن میں جاری مسلح تصادم میں پانچ ماہ کے دوران 400 بچوں کی ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔

یونیسیف کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مختلف مسلح تنظیموں کی جانب سےتقریباً اتنی ہی تعداد میں بچوں کو بھرتی بھی کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لڑائی ’کا کوئی حل نہیں نظر آ رہا ہے۔‘

یمن کے حوالے سے یونیسیف کا یہ پہلا انتباہ ہے۔

یونیسیف کی رپورٹ کے مطابق ایک کروڑ کے قریب بچے یا تقریباً آدھی آبادی کو فوری طور پر انسانی امداد کی ضرورت ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ یمن کے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں پانچ لاکھ کے قریب حاملہ خواتین کی طبی سہولیات تک رسائی نہیں ہے، جس کے باعث دورانِ زچگی اور حمل میں پیچیدگیوں کے دوران انھیں شدیدمشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

یاد رہے کہ یمن میں سعودی عرب اور اس کے اتحادی، شیعہ حوثی جنگجوؤں کے ساتھ برسرپیکار ہیں۔ تنازعے کے باعث لاکھوں افراد پھنس کے رہ گئے ہیں جبکہ امدادی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ لوگ بھوک کا شکار ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یونیسیف کا کہنا ہے کہ یمن میں تمام فریق کی جانب سے اپنی افرادی قوت میں اضافے کے لیے نو عمر لڑکوں کو بھرتی کیا جا رہا ہے

یونیسیف کے مطابق ’بچوں کو درکار بنیادی ضرورتیں تہس نہس ہو چکی ہیں۔‘

اِس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایک ہفتے پہلے تک 398 بچے ہلاک ہوئے ہیں، 377 بچوں کو لڑائی کے لیے بھرتی کرلیا گیا ہے جبکہ 13 لاکھ بچوں کو اپنے گھر بار چھوڑنا پڑا ہے۔

رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔ اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کی تنظیم نے منگل کو بتایا کہ جمعے تک ہونے والی لڑائی میں کم ازکم 1950 شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ دونوں جانب سے جنگی قوانین کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ عام شہریوں کی زندگیاں بچانے کے لیے اقدامات نہیں کیے جا رہے۔

رواں ہفتے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اقوامِ متحدہ سے کہا ہے کہ مبینہ جنگی جرائم کی تفتیش کے لیے ایک کمیشن تشکیل دیا جائے۔

اقوامِ متحدہ اور دوسری امدادی تنظیموں کی جانب سے بار بار کہا جا رہا ہے کہ کھانے پینے کی اشیا، ایندھن، ادویات، اور دیگر ضروری سامان یمن پہنچانے دیا جائے۔

تاہم اتحادیوں کے جانب سے ہوائی اور سمندری حدود میں سفر پر سخت پابندیاں عائد ہیں۔ دوسری جانب جلاوطن یمنی حکومت کی جانب سے الزام لگایا جا رہا ہے کہ بھیجی جانے والی امداد حوثی باغی ضبط کر لیتے ہیں۔

عرب دنیا میں یمن سب سے غریب ملک ہے جس کا 90 فیصد انحصار درآمدات پر ہے۔ تاہم اقوامِ متحدہ کی طرف سے وہاں مختلف ذرائع سے امداد بھیجنے کی کئی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔

کچھ ماہ قبل اقوامِ متحدہ کی جانب سے اپیل کے بعد سعودی عرب نے 27.4 کروڑ ڈالر کی امداد دینے کا وعدہ کیا تھا۔ یونیسیف کے ترجمان نے منگل کو امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کو بتایا کہ اپیل کے بعد سے اُن کی تنظیم کو کوئی رقم موصول نہیں ہوئی۔ سعودی عرب اور عالمی ادارے کے مابین امداد کے بارے میں ہونے والی بات چیت کی وجہ سے رقم تعطلی کا شکار ہے۔

یونیسیف کے یمن میں نمائندے جولین ہارنیز کہتے ہیں: ’یہ تنازع یمن کے بچوں کے لیے خاص طور پر المناک ہے ۔۔۔ (وہ) بم حملوں یا پھر گولیوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ جو بچے بچ جاتے ہیں اُن کو بیماریوں اور غذائی قلت کا خطرہ ہوتا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ reuters
Image caption انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس کا کہنا ہے کہ اُس کو یمن کے جنگ زدہ علاقوں میں بڑھتی ہوئی اُن لاشوں پر ’شدید تشویش‘ ہے جن کا کوئی پرسانِ حال نہیں

’یمن رپورٹ: چائلڈ ہُڈ انڈر تھریٹ‘ کے مطابق اس تنازعے میں مسلح گروہوں کی جانب سے بھرتی کیے جانے یا استعمال ہونے والے والے بچوں کی تعداد گذشتہ سال کے مقابلے میں اِس سال دُگنی سے زائد ہوگئی ہے۔ 2014 میں 156 بچوں کو بھرتی کیا گیا تھا جبکہ رواں سال اب تک 377 بچوں کو بھرتی کیا جا چکا ہے۔

یونیسیف کا کہنا ہے کہ یمن میں تمام فریق کی جانب سے اپنی افرادی قوت میں اضافے کےلیے نو عمر لڑکوں کو بھرتی کیا جا رہا ہے۔ یہ نوجوان اپنے خاندان کی معاشی مدد کرنے کی غرض سے لڑائی میں شامل ہوتے ہیں۔

دوسری جانب انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس نے منگل کو کہا ہے کہ اُس کو یمن کے جنگ زدہ علاقوں میں بڑھتی ہوئی اُن لاشوں پر ’شدید تشویش‘ ہے جن کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔

اسی بارے میں