’عراق پر حملے کی معافی مانگوں گا‘

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption کوربن ایک عرصے سے لیبر پارٹی سے وابستہ ہیں

برطانیہ میں حزبِ مخالف کی جماعت لیبر پارٹی کے صدارتی امیدوار جیرمی کوربن نے اپنی انتخابی مہم کے دوران کہا ہے کہ اگر وہ لیبر پارٹی کے سربراہ منتخب ہو گئے تو وہ عراق پر امریکی حملے میں شامل ہونے کے سابق لیبر حکومت کے فیصلے پر برطانوی اور عراقی عوام سے معافی مانگیں گے۔

برطانوی اخبار گارڈیئن کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ان کی جماعت مستقبل میں کبھی اقوام متحدہ اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی نہیں کرے گی۔

انھوں نے کہا کہ یہ جاننے کے لیے کہ عراق پر حملے کے سلسلے میں غلطیاں ہوئیں ہیں، چلکٹ انکوائری مکمل ہونے کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

یاد رہے کہ ڈیوڈ کیمرون نے اپنے پہلے دورِ حکومت میں عراق پر حملے کے فیصلے پر ایک سابق جج کی سربراہی میں انکوائری شروع کروائی تھی لیکن یہ کئی سال گزرنے کے باوجود ابھی تک مکمل نہیں ہو سکی ہے۔

لیبر پارٹی کے انتخابات میں عوامی سطح پر زبردست دلچسپی پائی جاتی ہے، اور ان میں چار امیدوار مدِمقابل ہیں۔ جائزوں کے مطابق ان انتخابات میں جیرمی کوربن کو واضح اکثریت حاصل ہے۔

لیبر پارٹی کے انتخابات میں برطانیہ بھر سے جماعت کے چھ لاکھ دس ہزار رجسٹرڈ ارکان ووٹ ڈالیں گے۔

جیرمی کوربن کے علاوہ اس دوڑ میں اینڈی برمن، لز کینڈل اور ایویٹ کوپر شامل ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ لیبر پارٹی کو برطانوی عوام کو دھوکے سے جنگ میں دھکیلنے اور جنگ سے ہونے والی تباہ کاری پر عراقی عوام سے معافی مانگنی چاہیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بائیں بازو کی طرف ان کے فکری میلان نے لیبر کے حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے

ایویٹ کوپر نے بھی ایک انٹرویو میں عراق پر امریکی حملے میں شمولیت کو غلطی قرار دیا۔

بی بی سی کے ایک پروگرام میں جب ان سے پوچھا گیا کہ سابق لیبر انتظامیہ کی اگر ایک غلطی کی آپ کو نشاندہی کرنی پڑے تو آپ کیا کہیں گی۔ ایویٹ کورپر نے کہا کہ چلکٹ انکوئری کے مکمل ہونے پر ہی پتہ چلے گا کہ اصل میں کیا ہوا تھا لیکن ’ہم غلط تھے۔‘

دھاندلی کے خدشات

لیبر پارٹی کے آئین کے مطابق کوئی بھی شہری تین پاونڈ کی فیس ادا کر کے لیبر پارٹی کے انتخابات میں ووٹ ڈال سکتا ہے۔

دریں اثنا لیبر پارٹی کے نائب صدر کے امیدوار بین بریڈشا نے بی بی سی کے نیوز نائٹ پروگرام میں دوسری جماعتوں کے ارکان کی طرف سے لیبر پارٹی کے انتخابات پر اثر انداز ہونے کے خدشات پر اپنے رد عمل کا اظہار کیا۔

انھوں نے کہا کہ وہ حزب اقتدار اور لیبر کے روایتی حریف ٹوری پارٹی یا قدامت پارٹی کے کئی ایسےارکان کو جانتے ہیں جنھوں نے لیبر میں عارضی رکنیت حاصل کر لی ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ کسی طور پر قابل قبول نہیں ہے۔

اسی بارے میں