حملہ آور کو پکڑنے پر فرانسیسی صدر امریکیوں کے شکرگزار

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption حملہ آور کو دبوچنے والے امریکی شہری سپینسر سٹون کا تعلق امریکی فضائیہ اور الیک سکارلاٹوس نشنل گارڈ کے رکن ہیں

فرانس کے صدر فرانسوا اولاند نے ملک کے شمالی علاقے میں ایک ٹرین پر سوار مسلح شخص کو قابو کرنے والے تین امریکی شہریوں کا شکریہ ادا کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اصل ہیرو ہیں۔

مسلح شخص نےجمعے کی شب شمالی فرانس کے قریب میں ٹرین میں فائرنگ کرنے کے لیے بندوق تانی ہی تھی کہ ٹرین میں سوار تین امریکی مسافروں نے اُسے دبوچ لیا۔

ٹرین پر حملے کرنے والے شخص کا تعلق مراکش سے ہے اور اُس کی عمر 26 برس ہے۔ مسلح شخص کو حراست میں لینے کے بعد انسدادِ دہشت گردی کے حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

فرانسیسی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ خفیہ اداروں کو حراست میں لیے گئے شخص کے بارے میں معلومات تھیں اور مشتبہ حملہ آور نے پولیس سے بات کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

مسلح شخص کو قابو کرنے والے ایک امریکی شہری کا کہنا تھا کہ اس نے حملہ آور سے اے کے 47 رائفل اور ایک آٹو میٹک پستول اس وقت چھین لی جب وہ اس نے حملہ آور کو ٹرین میں نشستوں کے درمیان چلتے دیکھا تھا۔

اس کے بعد انھوں نے اس شخص کو دبوچ لیا اور بے ہوش کر دیا۔

حملے کو ناکام بنانے والے دو امریکی فوجی تھے۔ ان میں سے سپنسر سٹون کا تعلق امریکی فضائیہ سے ہے جبکہ الیک سکارلاٹوس نیشنل گارڈ کے رکن ہیں۔

وہ دونوں جمعے کے شام اپنے بچپن کے دوست انتھونی سیڈلر سے ملنے ایمسٹرڈیم سے پیرس جا رہے تھے۔انتھونی سیڈلر نے بھی حملہ آور کو پکڑنے میں مدد کی تھی۔

الیک سکارلاٹوس نے سکائی نیوز کو بتایا کہ ’سپینسر نے اس شخص کو سب سے پہلے پکڑا اور اس کی گردن دبوچ لی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ملزم کے پاس سے کلاشنکوف، چاقو اور ایک آٹومیٹک پستول اور اُس کی گولیاں برآمد ہوئیں ہیں۔

فرانس کے وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ مقامی وقت کے مطابق جمعے کی شام 5:45 منٹ پر ہوا اور مسلح شخص کے حملے میں کم سے کم تین افراد زخمی ہوئے ہیں۔

فرانسیسی حکام کا کہنا ہے کہ زخمی ہونے والے تین افراد میں سے دو کی حالت نازک ہے ۔ زخمی ہونے والے ایک شخص کو گولی لگی ہے جبکہ دوسرے پر چاقو سے وار کیا گیا ہے۔

فرانس کے کے وزیرِ داخلہ نے کہا ہے کہ یہ ’مسافر حوصلہ مند تھے اور انھوں نے مشکل حالات میں بہادری کا شاندار مظاہرہ کیا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اگر یہ اس وقت حاضر دماغی کا مظاہرہ نہ کرتے تو ہمیں ایک بدترین حادثے کا سامنا کرنا پڑا سکتا تھا‘۔

انھوں نے بتایا کہ صدر فرانسوا اولاند نے ان افراد سے فون پر بات کی ہے اور وہ جلد ان سے ملاقات بھی کریں گے۔

امریکی صدر اوباما نے بھی امریکی شہریوں کے اقدام کو سراہا ہے۔

وائٹ ہاؤس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’صدر نے ٹرین کے مسافروں کی ہمت و حوصلہ اور فوری ردعمل پر صدر نے فخر و تحسین کا اظہار کیا ہے جن میں وہ امریکی فوجی بھی ہیں جنھوں نے حملہ آور کو قابو کر لیا۔‘

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’یہ واضح ہے کہ ان کی بہادرانہ کارروائی سے ایک خوفناک المیہ رونما ہونے سے بچ گیا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر تصاویر بھی جاری کی گئی ہیں۔ ایک تصویر میں زخمی شخص ٹرین کے فرش پر پڑا ہے۔

فرانسیسی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ حملہ آور کو قابو کرنے والے مسافر امریکی فوجی تھے جو واش روم میں پستول کو لوڈ کرنے کی آواز سننے کے بعد حرکت میں آئے اور جیسے ہی مسلح شخص واش روم سے باہر نکلا۔ اُسے پکڑ لیا گیا۔

نیویارک سے تعلق رکھنے والی ایک مسافر نے بی بی سی کے ریڈیو فائیو کو بتایا کہ ’حملے کے وقت میں اپنی نشست کے نیچے چھپ گئی۔ حملہ آور کو قابو کرنے والا کوئی بھی مسافر یونیفام میں ملبوس نہیں تھا۔‘

واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر تصاویر بھی جاری کی گئی ہیں۔ ایک تصویر میں زخمی شخص ٹرین کے فرش پر پڑا ہے۔

فرانس میں ریل کمپنی کا کہنا ہے کہ مسافر ٹرین میں 554 افراد سوار تھے۔اس واقعے کے بعد کئی مسافر ٹرینوں کو تاخیر کا سامنا ہے۔

فرانس میں شدت پسندی کے واقعات میں تیزی آئی ہے اور چارلی ایبڈو میگزین اور یہودی سپر مارکیٹ میں مسلح افراد کے حملے میں 17 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اسی بارے میں