سعودی عرب میں موت کی سزاؤں پر ایمنیسٹی کو تشویش

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock
Image caption سعودی عرب میں موت کی سزا زیادہ طور پر سر قلم کر کے دی جاتی ہے

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنیسٹی انٹرنیشنل کے مطابق گذشتہ ایک سال کے دوران سعودی عرب میں کم از کم 175 افراد کو ’غیر منصفانہ‘ نظام کے تحت، جس میں بنیادی تحفظات میسر نہیں ہیں، سزائے موت دی گئی۔

ایمنیسٹی کی ایک رپورٹ میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ سلطنتِ سعودی عرب کا ناقص نظامِ انصاف بڑے پیمانے پر سزائے موت دیے جانے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بہت سے واقعات میں ملزموں کو وکیلوں کی سہولت مہیا نہیں کی جاتی اور بہت سے لوگوں کو پولیس حراست کے دوران تشدد سے حاصل کیے جانے والے اعترافی بیانات کی بنا پر موت کی سزا دے دی جاتی ہے۔

جن لوگوں کو سزائے موت دی گئی ہے ان میں کم عمر ملزمان اور ذہنی بیمار شامل تھے۔

سعودی عرب میں سخت گیر شرعی قوانین نافذ ہیں اور بہت سے ایسے جرائم میں بھی موت کی سزا دی جاتی ہے جو مروجہ بین الاقوامی قوانین میں اتنے سنگین تصور نہیں کیے جاتے۔ ان میں منشیات کا کاروبار، جادو ٹونا، مذہب سے انحراف اور ارتداد جیسے جرائم شامل ہیں۔

ایمنیسٹی کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں جنوری 1985 سے جون 2015 کے درمیانی عرصے میں 2208 لوگوں کو موت کی سزا دی گئی۔

انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا تھا کہ ان میں آدھی سے زیادہ تعداد غیر ملکیوں کی تھی جو عربی زبان سے واقف نہیں تھے اور ان سے ایسی دستاویزات اور اعترافی بیانات پر دستخط کرائے گئے جن کو وہ پڑھنے اور سمجھنے سے قاصر تھے۔

2015 کے پہلے چھ ماہ میں 102 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا جبکہ گذشتہ برس 90 افراد کو موت کی سزا دی گئی تھی۔ زیادہ تر لوگوں کو سر قلم کر کے سزائے موت دی گئی اور کچھ کو گولی ماری گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ nc
Image caption ایمنیسٹی کے مطابق سعودی عرب میں انصاف کے بنیادی اصولوں کے مطابق ملزموں کے حقوق پورے نہیں کیے جاتے

رپورٹ میں کہا گیا کہ سعودی عرب میں رائج شرعی نظامِ عدل میں بہت سے جرائم کی تشریح اور ان میں تجویز کردہ سزاؤں کے بارے میں ابہام پایا جاتا ہے۔ وہاں ججوں کو بھی صوابدیدی اختیارات حاصل ہیں جس کی بنا پر عدالتی فیصلوں میں واضح تضاد پایا جاتا ہے۔

ایمنیسٹی نے مزید کہا کہ بہت سے واقعات میں موت کی سزا بند کمروں میں غیر منصفافہ اور سرسری سماعتوں کے بعد سنا دی جاتی ہے۔

ایک مقدمے میں اگست 2014 میں دو بھائیوں کو منشیات وصول کرنے کے جرم میں موت کی سزا دی گئی۔

ایک شخص نے شکایت کی کہ حراست کے دوران ان سے اعترافی بیان لینے کے لیے انھیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

ایمنیسٹی کے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے ڈائریکٹر سعد بومدوہا نے ایک بیان میں کہا کہ ایک انتہائی ناقص نظام عدل کے تحت ہزاروں افراد کو موت کی سزا دینا شرمناک عمل ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ موت کی سزا خوفناک عمل ہے اور خاص طور پر غیر منصفانہ نظام اور من مانے فیصلوں کے تحت۔

سعودی عرب کا کہنا ہے کہ ملک میں موت کی سزائیں شرعی قوانین کے تحت دی جاتی ہیں جس میں انصاف کے تمام تقاضے پورے کیے جانے کو یقینی بنایا جاتا ہے۔

اسی بارے میں