سپین اور مراکش میں ’دولت اسلامیہ کے 14 شدت پسند گرفتار‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption گرفتار کیے جانے والے افراد مبینہ طور پر شدت پسند تنظیم میں لوگوں کو بھرتی کرنے کے کام سے منسلک ہیں

سپین اور مراکش نے مشترکہ آپریشن کے دوران شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے 14 شدت پسندوں کو گرفتار کیا ہے۔ ان افراد کو سپین اور مراکش کے مختلف شہروں سے حراست میں لیا گیا ہے۔

گرفتار کیے جانے والے افراد مبینہ طور پر شدت پسند تنظیم میں لوگوں کو بھرتی کرنے کے کام سے منسلک ہیں۔

ان کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ یہ افراد ایک مشتبہ نیٹ ورک کا حصہ ہیں جو شام اور عراق میں دولت اسلامیہ کے زیرانتظام علاقوں میں جنگجو بھرتی کر کے بھیجتے تھے۔

خیال رہے کہ جمعے کو فرانس میں ایک مارکشی شہری کو ٹرین میں حملہ کرنے سے قبل گرفتار کر لیا گیا تھا۔

فرانس ٹرین پر حملہ کرنے والے 25 سالہ ایوب ال خزنی سپین میں رہے تھے اور ان کا تعلق شمالی مراکش کے شہر تییوان سے تھا۔ وہ سنہ 2007 میں سپین آیے اور فرانس جانے سے قبل سات سال تک سپین میں میڈرڈ اور الجیسیراس میں قیام پذیر رہے تھے۔

ان کے بارے میں شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان کا تعلق شدت پسند اسلامی تنظیم سے ہے اور انھیں ’انتہائی خطرناک‘ افراد کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔

سپین میں سپینش کاڈینا سر ریڈیو نیٹ ورک نے انسداد دہشت گردی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ یورپ میں اس وقت ٨٠٠ شدت پسند موجود ہیں جو حملہ کرنے کے لیے تیار ہیں، یہ افراد شام اور عراق سے واپس لوٹے ہیں۔

حالیہ گرفتاریاں میڈرڈ کے علاقوں سان مارٹن ڈی لا ویگا اور مراکش کے شہروں فاس، کانسابلانکا، ناظور، الہسیمہ اور درویچ میں کی گئی ہیں۔

سپین کے وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ آپریشن تاحال جاری ہے، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات سے آگاہ نہیں کیا گیا۔

اسی بارے میں