لیبیا سے چلنے والی کشتی سے 50 تارکینِ وطن کی لاشیں برآمد

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption 50 مسافر ہلاک ہوگئے جبکہ 430 افراد کو زندہ بچا لیا گیا ہے: اطالوی کوسٹ گارڈز

اطالوی کوسٹ گارڈز کا کہنا ہے کہ لیبیا کے ساحلی علاقے سے روانہ ہونے والی ایک کشتی سے انھیں 50 تارکینِ وطن کی لاشیں ملی ہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز سے گفتگو میں اطالوی کوسٹ گارڈز کی خاتون ترجمان نے بتایا لیبیا سے آنے والی اس کشتی میں سوار 430 افراد کو زندہ بچا لیا گیا ہے۔

ریسکیو آپریشن سویڈن کے بحری جہاز ’پوسائڈن‘ کے ذریعے کیا گیا جس میں یورپی یونین کی سرحدی نگرانی پر مامور فرنٹکس بارڈر ایجنسی کا تعاون شامل تھا۔

خیال رہے کہ حالیہ عرصے میں لیبیا سے دیگر ممالک تک سمندری راستے سے سفر کرنے کی کوشش کرنے والے ہزاروں تارکینِ وطن ہلاک ہو چکے ہیں۔

اطالوی کوسٹ گارڈز کی ترجمان کے مطابق بدھ کو ہونے والا ریسکیو آپریشن ان دس مہمات میں سے ایک ہے جو لیبیا کے پانیوں میں جاری ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ یورپ جانے کی کوشش میں رواں سال 2000 تارکینِ وطن ہلاک ہو چکے ہیں

تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ پوسائڈن کو ملنے والے تارکینِ وطن کی ہلاکت کیسے ہوئی۔

اس سے قبل اگست میں ہی اطالوی بحریہ نے ایک کشتی سے 49 افراد کی لاشیں برآمد کی تھیں جن کے بارے میں یہ خیال ظاہر کیا گیا تھا کہ ان مسافروں کی ہلاکتیں دم گھٹنے سے ہوئیں۔

زندہ بچ جانے والوں نے بعد میں کہا تھا کہ انسانی سمگلرز نے ان سے سامان رکھنے والے خانے میں رہنے پر اصرار کیا۔

لیبیا میں موجود انسانی سمگلرز وہاں کے قدرے پرسکون دریاؤں کا فائدہ اٹھا کر یورپی ساحلوں کی جانب جانے والی کشتیوں میں زیادہ سے زیادہ تارکینِ وطن کو سوار کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

یورپی حکام کے مطابق تقریباً ڈھائی لاکھ تارکینِ وطن کشتیوں کے ذریعے یورپ میں داخلے کی کوشش کر چکے ہیں۔

ادھر اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ رواں سال یورپ کے سمندروں کو عبور کرنے کی کوشش میں 2000 تارکینِ وطن ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں