مصر میں الجزیرہ کے تین صحافیوں کو قید کی سزا

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption جولائی 2014 میں بھی ان تینوں صحافیوں کو سزائیں سنائی گئی تھیں۔ لیکن رواں سال جنوری میں ان کی سزائیں واپس لے لی گئی تھیں اور فروری میں انھیں مقدمے کی سماعت تک کے لیے آزاد کر دیا گیا تھا

مصرکے دارالحکومت قاہرہ میں ایک عدالت نے الجزیرہ چینل کے تین صحافیوں کو ’جھوٹی خبریں پھیلانے‘ کے الزام میں تین، تین سال قید کی سزا سنائی ہے۔

عدالت نے دو مرتبہ اس مقدمے میں سماعت کی۔

پیٹر گریسٹا نے ٹوئٹر پر ایک بیان میں کہا ہے کہ عدالتی فیصلے پر انھیں صدمہ ہوا ہے اور یہ زیادتی ہے جبکہ الجزیرہ ٹی وی نے فیصلے کو آزادی صحافت پر ایک اور دانستہ حملہ قرار دیا ہے۔

مصری نژاد کینیڈین شہری محمد فہمی اور مصر کے باہر محمد فیصلے کے وقت عدالت میں موجود تھے۔

آسٹریلوی صحافی پیٹر گریسٹا کو اس ہی سال ملک بدر کیا جا چکا ہے جبکہ غائبانہ طور پر ان کو اس مقدمے میں دوبارہ شامل کر لیا گیا تھا۔

ان تینوں صحافیوں پر کالعدم تنظیم اخوان المسلمین کی مدد کرنے کا الزام ہے جس کی وہ سختی سے تردید کرتے رہے ہیں۔

جولائی 2014 میں تینوں صحافیوں کو سزائیں سنائی جا چکی تھیں جن میں گریسٹا کے ساتھ فہمی کو سات سال جبکہ محمد کو 10 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

Image caption الجزیرہ چینل کے صحافیوں کی گرفتاری پر صحافی حلقوں اور تظیموں کی جانب سے احتجاج بھی کیا گیا

لیکن رواں سال جنوری میں ان کی سزائیں واپس لے لی گئی تھیں اور فروری میں انھیں مقدمے کی سماعت تک کے لیے آزاد کر دیا گیا تھا۔

ہفتے کو مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے جج کا کہنا تھا کہ تینوں افراد لائسنس یافتہ صحافی نہیں تھے اور قاہرہ کے ایک ہوٹل سے کام کر رہے تھے۔

انھوں نے گریسٹا اور فہمی کو تین تین سال کے سزا سنائی ہے جبکہ محمد کو چھ ماہ کے اضافے کے ساتھ تین سال چھ ماہ کی سزا سنائی ہے۔

ادھر تینوں صحافیوں کے وکلا متوقع طور پر اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے۔

عدالت کے باہر اپنے بیان میں محمد فہمی کی وکیل امل کلونے نے صدر السیسی سے مطالبہ کیا کہ وہ ان صحافیوں کو معاف کر دیں۔

اسی بارے میں