مراکش کے بادشاہ کو ’بلیک میل‘ کرنے پر صحافی گرفتار

شاہ مراکش محمد ششم تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption مراکش میں شاہ محمد ششم پر تنقید غیرقانونی ہے

فرانس میں وکلا کے مطابق دو صحافیوں کو مراکش کے بادشاہ کو بلیک میل کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔

ایرِک لارینٹ اور کیتھرین گریشیٹ کو، جو شاہ محمد ششم کے بارے میں کتاب لکھ رہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ ایک مراکش کے اہلکار سے رقم وصول کر رہے تھے۔

مراکش کی حکومت کے ایک وکیل نے فرانس کے آر ٹی ایل ریڈیو کو بتایا کہ ایرِک لارینٹ نے شاہی محل سے رابطہ کر کے 30 لاکھ یورو کی ادائیگی کا مطالبہ کیا تھا۔

ایرِک لارینٹ نے مبینہ طور پر مذکورہ کتاب میں ایسے انکشافات کرنے کی دھمکی دی تھی جو شاہی خاندان کی ساکھ کے لیے نقصاندہ ہو سکتے ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق مذکورہ صحافی اور مراکشی اہلکار کے درمیان پہلے سے طے شدہ ملاقات میں ’رقم حوالے اور وصول کی گئی‘۔

کتاب شائع کرنے والی کمپنی ’ایڈیشنز ڈو سیوِل‘ نے تصدیق کی ہے کہ دونوں صحافی، جو پہلے ہی ایک کتاب تصنیف کر چکے ہیں، دوسری جِلد پر کام کر رہے تھے جو اگلے برس کے آغاز میں شائع ہونا تھی۔

مراکشی ویب سائٹ Le360.ma نے، جس کے شاہی محل سے قریبی روابط ہیں، مراکشی نمائندوں اور ایرِک لارینٹ کے درمیان ملاقاتوں کی تفصیلات شائع کی ہیں۔ پولیس نے ان ملاقاتوں کی خفیہ نگرانی کی۔

رپورٹ کے مطابق صحافیوں کو اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ مبینہ طور پر پیشگی رقم (بیعانہ) وصول کرکے ایک ریستورانٹ سے نکل رہے تھے۔

ایرِک لارینٹ اور کیتھرین گریشیٹ نے 2012 میں شائع ہونے والی کتاب، پریڈیٹر کنگ، میں شاہ محمد ششم کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ اس کتاب میں 1999 میں تخت پر بیٹھنے کے بعد ان کی دولت میں بے پناہ اضافے کی تصیلات دی گئی ہیں۔

مراکش کے قانون کے تحت بادشاہ پر تنقید ممنوع ہے جسے توڑنے کی سزا پانچ برس قید ہے۔