شام میں دولتِ اسلامیہ کے ٹھکانوں پر ترکی کے فضائی حملے

تصویر کے کاپی رائٹ AIRTEAMIMAGES
Image caption ترکی نے دولتِ اسلامیہ کی جانب سے کیے گئے بم دھماکے کے بعد شدت پسند تنظیم کے خلاف کارروائیوں میں اضافہ کیا ہے

شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے خلاف امریکی اتحادی افواج میں شامل ترکی کے لڑاکا طیاروں نے شام میں فضائی حملے کیے ہیں۔

ترکی کے وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ شام کے سرحدی علاقوں میں دولتِ اسلامیہ کے ٹھکانوں پر بمباری کی گئی۔

ترکی نے حالیہ کچھ ہفتوں کے دوران شدت پسندوں تنظمیوں کے خلاف کارروائیوں میں اضافہ کیا ہے اور شام کی سرحد کے قریب فضائی اڈوں پر امریکی جیٹ طیاروں کو رسائی دی گئی ہے۔

امریکہ نے رواں ماہ کے آغاز میں ترکی کے فضائی اڈے کو ڈورن اڑانے کے لیے استعمال کرنا شروع کیا تھا۔

ملک کی وزراتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’ہمارے لڑاکا جنگی طیاروں نے گذشتہ روز اتحادی افواج کے ساتھ مل کر دولتِ اسلامیہ کے خلاف فضائی حملوں میں اُن کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جو کہ ہمارے ملک کی سکیورٹی کے لیے خطرہ ہیں۔‘

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’دہشت گرد تنظیموں کے خلاف جنگ ہماری ترجیحات میں شامل ہے۔‘

ترکی نے دولتِ اسلامیہ کی جانب سے کیے گئے بم دھماکے کے بعد شدت پسند تنظیم کے خلاف کارروائیوں میں اضافہ کیا ہے۔ جولائی میں سرحدی علاقے میں ہونے والے بم دھماکے میں کم سے کم 12 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اس سے قبل 24 جولائی کو ترکی نے شام میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف فضائی کارروائی کی تھی لیکن اُس کی یہ کارروائی اتحادی افواج کے آپریشن کا حصہ نہیں تھی۔

یہ تازہ حملہ دولتِ اسلامیہ کے خلاف امریکہ اور ترکی کے اتحادی آپریشن کا حصہ ہے۔

اس حملے کے بارے میں زیادہ تفصیلات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔

اس سے قبل جمعرات کو دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں نے شام کے شمال میں ترکی کی سرحد کی جانب پیش قدمی کرتے ہوئے پانچ دیہاتوں کا محاصرہ کیا۔

دولتِ اسلامیہ حلب صوبے کے شمال میں ترکی کی جانب پیش قدمی کی تھی جس کے بعد ترکی اور امریکہ کے درمیان ’آئی ایس فری سیف زون‘ بنانے پر اتفاق ہوا تھا۔

اسی بارے میں