فرانس میں کیلے کی بندرگاہ پر مظاہروں سے فیری سروس معطل

Image caption فیری کمپنی ’پی اینڈ او فیریز‘ نے اپنے مسافروں سے کہا ہے کہ وہ یہ نہیں بتا سکتے کہ کب تک سروس مکمل طور پر بحال ہو جائے گی۔

فرانس میں کیلے کی بندرگاہ پر نئے مظاہروں کی وجہ سے فیری سروس معطل ہو گئی ہے اور مسافروں کو صبر آزما انتظار کا سامنا ہے۔ مسافر اختتام ہفتے پر اپنے علاقے تک پہنچنے کے لیے پریشان ہیں۔

فیری کے ذریعے سفر کی سہولیات فراہم کرنے والے کمپنی تحلیل ہونے کے بعد کمپنی کے ملازمین ’کے لے‘ میں احتجاجی مظاہرے کر رہے ہیں۔

مظاہرین نے فرانس میں بندرگاہ کی طرف آنے جانے والے راستے بند کر دیے ہیں جس سے فرانس اور برطانیہ کے درمیان کشتیوں کی سروس متاثر ہوئی ہے۔ شمالی فرانس کی بندرگاہ پر بھی ہڑتال کے نتیجے میں سروس معطل کرنی پڑی ہے۔

فیری کمپنی ’پی اینڈ او فیریز‘ نے اپنے مسافروں سے کہا ہے کہ وہ یہ نہیں بتا سکتے کہ کب تک سروس مکمل طور پر بحال ہو جائے گی۔

فیری کمپنی نے مسافروں سے کہا ’ہمیں افسوس سے آپ کو مطلع کرنا پڑ رہا ہے کہ اس وقت (کے لے) کی بندرگاہ سے کوئی کشتی نہ آرہی ہے نہ جا رہی ہے۔ تاہم صورتِ حال کو ٹھیک کرنے کے لیے بات چیت ہو رہی ہے۔‘

’کے لے‘ کی میئر نٹاچا باؤچرٹ نے اپنی ٹویٹ میں بندرگاہ بند ہونے پر ’افسوس‘ کا اظہار کیا ہے۔

فرانس اور برطانیہ کے درمیان زیر زمین ٹرین سروس ’یورو ٹینل‘ کا کہنا ہے کہ صرف وہ مسافر سفر کر سکتے ہیں جن کا ٹکٹ پہلے سے بک ہے۔

ایک ٹویٹ میں یورو ٹنیل کی جانب سے کہا گیاہے کہ ’ہم آج رات ’کے لے‘ سے برطانیہ آنے والے کسی بھی ایسے مسافر کو نئے ٹکٹ فروخت کرنے سے قاصر ہیں جس نے پہلے سے بکنگ نہیں کرائی۔‘

اسی بارے میں