’دولت اسلامیہ کے ہاتھوں ایک اور قدیم معبد کی تباہی‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اس تنظیم نے شام اور عراق میں پہلے بھی کئی آثار کو تباہ کیا ہے لیکن ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ انھوں نے پیلمائرا کو کتنا نقصان پہنچایا ہے

شام سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے پیلمائرا کے کھنڈرات میں واقع بل نامی اہم ترین معبد کا ایک حصہ تباہ کر دیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے عالمی ثقافتی ادارے یونیسکو کی جانب سے عالمی ورثہ قرار دی جانے والے ان کھنڈرات میں واقع بل نامی اس قدیم عبادت گاہ کی مزید تباہی کی خبریں عینی شاہدین اور مقامی افراد کی جانب سے ملی ہیں۔

ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ دو ہزار سال قدیم معبد کو کس حد تک نقصان پہنچایا گیا ہے لیکن مقامی افراد کا کہنا ہے کہ زوردار دھماکہ ہوا ہے۔

بل کا معبد پہلی سنہِ عیسوی میں تعمیر کیا گیا تھا اور یہ عبادت گاہ پیلمائرا کے خدا کے لیے مختص تھی۔

دولتِ اسلامیہ کے اس تازہ حملے کے بارے میں پیلمائرا کے ایک رہائشی نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ ’مکمل تباہی ہے۔ انیٹیں اور ستون زمین بوس ہو گئے ہیں۔ یہ ایسا دھماکہ تھا کہ کوئی بہرہ بھی اسے سن سکتا تھا۔ صرف عبادت گاہ کی دیوار ہی باقی بچی ہے۔‘

یہ تباہی شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے ہاتھوں پیلمائرا میں ہی واقع بعل شمین کی عبادت گاہ کی دھماکے سے تباہی کے ایک ہفتے بعد ہوئی ہے۔

دولتِ اسلامیہ نے رواں سال مئی میں پیلمائرا پر قبضہ کر لیا تھا، جس کے بعد اس تاریخی ورثے کے بارے خدشات بڑھ گئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock
Image caption بعلِ شمین پہلی سنہِ عیسوی میں تعمیر کیا گیا تھا

یونیسکو نے تاریخی ورثے کے تباہی کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ’جنگی جرائم‘ کے مترادف ہے۔

اس سے قبل شام کے آثار قدیمہ کے سربراہ مامون عبدالکریم نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو بتایا تھا کہ: ’دولت اسلامیہ نے بعل شمین میں بڑی تعداد میں بارودی مواد نصب کر کے اسے دھماکے سے اڑا دیا ہے جس کے باعث عبادت گاہ کو بہت نقصان پہنچا ہے۔ عبادت گاہ کا اندرونی حصہ تباہ ہو گیا ہے اور اس کے ستون بھی تباہ ہوئے ہیں۔‘

تاہم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق پیلمائرا سے نکل جانے والے مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ اس عبادت گاہ میں ایک ماہ قبل بڑی مقدار میں بارودی مواد نصب کیا گیا۔

اس سے قبل دولتِ اسلامیہ نے عراق میں بھی کئی اہم تاریخی مقامات تباہ کیے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ

یاد رہے کہ چند دن قبل ہی شام کے معروف قدیمی شہر پیلمائرا (تدمر) میں رومی دور کے آثار کی دیکھ بھال کرنے والے شخص کو قتل کر دیا گیا تھا۔ مقتول نگران خالد الاسد کے اہلِ خانہ نے شامی آثارِ قدیمہ کے ڈائریکٹر کو بتایا کہ ان کا سر قلم کیا گیا تھا۔

یونیسکو کے ڈائریکٹر جنرل بوکوا نے قتل ہونے والے ماہرِ آثارِ قدیمہ کی ہلاکت کی مذمت کی تھی اور کہا تھا کہ دولتِ اسلامیہ نے ایک عظیم شخص کا قتل کیا ہے تاہم وہ تاریخ کو کبھی بھی خاموش نہیں کر سکتے۔

خیال رہے کہ شام میں خانہ جنگی سے قبل تک پیلمائرا کے یہ آثارِ قدیمہ دنیا بھر کے سیاحوں کی توجہ کا مرکز تھے۔

مشرقِ وسطیٰ کے ثقافتی ورثے پر لکھنے والی مصنفہ ڈیانا درکی نے بی بی سی کو بتایا کہ بعل نامی عبادت گاہ بہت بڑی تھی، جسے قلعے، گرجا گھر اور مسجد کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ ہر سال یہاں دنیا بھر سے ڈیڑھ لاکھ سیاح آتے تھے۔

شام کی فوج نے حالیہ مہینوں کے دوران دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کو وہاں سے نکالنے کی کوشش کی ہے اور اس کے آس پاس کے قصبوں میں شدید جنگ جاری ہے لیکن یہ تنظیم پیلمائرا پر ابھی تک قابض ہے۔

اسی بارے میں