’لندن سے بچوں سمیت شام جانے والی خاتون ترکی سے گرفتار‘

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption میٹروپولیٹن پولیس اس حوالے سے ترک حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں

برطانیہ میں پولیس کا کہنا ہے کہ لندن سے اپنے چار بچوں کے ساتھ شام جانے والی ایک خاتون کو ترکی میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔

میٹروپولیٹن پولیس کے مطابق مشرقی لندن کے علاقے والتھم فورسٹ کا رہائشی یہ خاندان گذشتہ ہفتے لاپتہ ہوگیا تھا اور ان کے بارے میں اطلاع ہے کہ وہ لندن سٹی ایئرپورٹ سے روانہ ہوا تھا۔

ترکی میں حکام نے لندن میں پولیس کو آگاہ کیا ہے کہ خاتون اور بچے محفوظ ہیں۔ بچوں کی عمریں چار سے 12 سال کے درمیان ہیں۔

میٹروپولیٹن پولیس اس حوالے سے ترک حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں۔

بی بی سی نامہ نگار لوسی میننگ کے مطابق 33 سالہ خاتون شام میں اپنی بہن اور ان کے خاوند کے ساتھ شامل ہونا چاہتی تھیں جن کے بارے میں خیال ہے کہ وہ گذشتہ برس شام چلے گئے تھے۔

میٹروپولیٹن پولیس کی انسداد دہشت گردی کمانڈ کے رچرڈ والٹن نے اس خاندان کو ڈھونڈنے میں مدد کر نے پر عوام اور میڈیا کا شکریہ ادا کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم خدشہ تھا کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ شام جانے کی منصوبہ بندی کر رہی تھیں اور اب انھیں ان کے بچوں کے ہمراہ ترکی میں حراست میں لے لیا گیا ہے۔‘

پولیس حکام کے مطابق بدھ کو اس خاتون کے خاوند کی جانب گمشدگی کی رپورٹ درج کروانے کے بعد عوام سے ان کے بارے میں اطلاعات فراہم کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔

یہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ خاندان منگل کو لندن سے ایمسٹرڈیم کے لیے روانہ ہوا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption پولیس کے مطابق برطانیہ سے40 کے قریب خواتین اور لڑکیوں نے گذشتہ برس شام کا سفر کیا تھا

لندن سٹی ایئرپورٹ کے سکیورٹی کیمروں میں اس خاندان کو جہاز میں سوار ہونے سے پہلے کے مناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔

خیال رہے کہ برطانیہ سے خواتین اور بچوں کے ہمراہ شام میں شدت پسند دولت اسلامیہ کے زیرانتظام علاقوں میں جانے کے کئی واقعات سامنے آئے ہیں اور ان میں سے بیشتر افراد نے ترکی کے راستے شام کا سفر اختیار کیا تھا۔

پولیس کے مطابق برطانیہ سے40 کے قریب خواتین اور لڑکیوں نے گذشتہ برس شام کا سفر کیا تھا۔

اس سے قبل جون میں برطانیہ کے علاقے بریڈفورڈ کی رہائشی تین بہنوں کے بارے میں خدشہ ظاہر کیا گیا تھا ہے کہ وہ مذہبی رسومات کے لیے سعودی عرب جانے کے بعد اپنے نو بچوں سمیت شام چلی گئی ہیں۔

جبکہ فروری میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ میں ممکنہ طور پر شمولیت کے لیے تین برطانوی لڑکیوں کے بارے میں ترکی کے راستے ہی شام جانے کی اطلاعات تھیں۔

اسی بارے میں