’عدن کے پناہ گزینوں کے خلاف سنگین مظالم کا ارتکاب کیا گیا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ (ایچ آر ڈبلیو) کے مطابق حکومت حامی ملیشیا اور حوثی باغیوں کی جانب سے یمن کے ساحلی شہر عدن کے پناہ گزینوں کے خلاف سنگین مظالم کا ارتکاب کیا گیا ہے۔

امریکی میں قائم اس تنظیم کی جانب سے جنوبی ملیشیا پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے مارچ میں کم از کم سات حوثی قیدیوں کو قتل کر دیا تھا۔

ایک کیس میں ایک باغی کو عوامی چوک پر ہلاک کرنے سے قبل شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

باغیوں پر لوگوں کو غیر قانونی طور پر حراست میں رکھنے اور جولائی میں خطرناک لڑائی کے بعد عدن سے نکالے جانے سے قبل عام شہریوں سے بدسلوکی کے الزامات بھی عائد کیے جاتے ہیں۔

سعودی حمایت یافتہ جنوبی جنگجو یمن کے جلاوطن صدر کی بحالی کی کوشش میں ہیں۔ وہ شمال کی جانب پیش قدمی کر رہے ہیں جس سے سکیورٹی کا خلا پیدا ہو رہا ہے جسے ممکنہ طور پر القاعدہ اور دولتِ اسلامیہ کے جہادی عسکریت پسند پر کر سکتے ہیں۔

اتوار کو ایک سینیئر سکیورٹی عہدیدار اور دو نام نہاد جنوبی مزاحمت کار سربراہوں کو عدن میں موٹرسائیکل سوار مسلح ملزمان کی جانب سے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔

کسی بھی شدت پسند تنظیم نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے لیکن القاعدہ کی مقامی شاخ کی جانب سے گذشتہ حملوں میں موٹرسائیکلوں کا استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

ہیومن رائٹس واچ نے منگل کو بتایا کہ اس کے پاس عدن میں مارچ کے آخر سے شروع ہونے والی لڑائی سے لے کر اب تک جنوبی ملیشیا اور حوثیوں کی جانب سے عام شہریوں اور ان کی تحویل میں موجود جنگجوؤں پر سنگین مظالم کے بہت سے واقعات کے دستاویزی ثبوت موجود ہیں۔

جنوبی ملیشیا پر الزام ہے کہ 23 اگست کو وہ نارنجی جمپ سوٹوں میں ملبوس حوثی قیدیوں کے ایک غیرشناخت شدہ گروہ کو ایک کشتی میں بٹھانے کے بعد عدن کی بندرگاہ کے وسط میں لے گئے اور وہاں جا کر کشتی کو دھماکے سے اُڑا دیا۔

اطلاعات کے مطابق انھوں نے بندرگاہ کی عمارتوں پر لہراتے دولتِ اسلامیہ کے جھنڈوں کے پس منظر میں دھماکے کے مناظر کو عکس بند بھی کیا۔

ایک عینی شاہد نے ایچ آر ڈبلیو کو بتایا کہ اگلے روز ایک حوثی قیدی کو عوامی چوک پر لے جا کر ایک درجن جنوبی جنگجوؤں کی جانب سے مارا پیٹا گیا۔ جان سے مارنے سے قبل اسے جنوبی ملیشیا میں شامل ہونے کی ترغیب بھی دی گئی۔

ایچ آر ڈبلیو نے مزید بتایا کہ دو زخمی حوثی افسر، جو عدن کے ایک ہسپتال میں زیرِعلاج تھے، انھیں رواں مارچ میں ہلاک کر دیا گیا ہے۔ ہسپتال کے عملے کے مطابق تین دیگر حوثیوں کو بھی ہسپتال سے لے جانے کے بعد مار دیا گیا تھا۔

عدن سے واپسی سے قبل حوثی باغیوں پر تحویل میں موجود جنوبی جنگجوؤں پر تشدد اور انھیں سخت حالات میں رکھنے کے الزامات عائد کیے جاتے ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ کے مطابق انھوں نے امدادی کارکنوں سمیت عام شہریوں کو بھی حراست میں رکھا اور ان کا طبی سامان اور دیگر تمام اشیا جن کے ساتھ وہ نقل وحمل کرتے تھے، اُن سے چھین لیا۔

ہیومن رائٹس واچ نے متحدہ عرب امارات اور جلا وطن حکومت سے ملاقات کی کہ وہ عدن میں حکام پر دباؤ ڈالیں کہ وہ وہاں جاری پُرتشدد کارروائیوں کا خاتمہ کریں اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کریں۔

تنظیم کی مشرقِ وسطیٰ کی ڈائریکٹر سارا لی واٹسن نے بتایا کہ’جنوبی فوجیں، جنھوں نے عدن پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا ہے، انھیں شہر میں امن و امان کے قیام کے لیے قیدیوں کے خلاف پُرتشدد کارروائیاں بند کر دینی چاہییں۔‘

اقوامِ متحدہ کے مطابق 26 مارچ جب سعودی قیادت میں حوثیوں کو شکست دینے اور صدر ہادی کی بحالی کے لیے ہوائی مہم کا آغاز کیا گیا تب سے لے کر اب تک 2112 عام شہریوں سمیت 4500 کے قریب افراد کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔

اسی بارے میں