’تارکین وطن کا بحران دراصل جرمنی کا مسئلہ ہے‘

Image caption تارکین وطن نے ٹرین سے اترنے سے انکار کر دیا جبکہ کئی ریلوے ٹریک پر لیٹ گئے

یورپی رہنماؤں میں تارکین وطن کے بحران سے نمٹنے کے معاملے پر اختلافات سامنے آئے ہیں جبکہ ہنگری میں تارکین وطن کی ٹرین سے اتارنے کی کوشش پر پولیس سے ہاتھا پائی ہوئی ہے۔

جمعرات کو ہنگری کے دارالحکومت بوڈاپیسٹ کے ریلوے سٹیشن کو دو دن بند رکھنے کے بعد تارکینِ وطن کے لیے کھول دیا گیا تھا تاہم وہاں سے تارکین وطن کو لے کر روانہ ہونے والی ایک ٹرین کو بوڈاپیسٹ سے تقریباً 40 کلو میٹر دور مغرب میں بسکے کے مقام روک دیا گیا جہاں پر تارکین وطن کا سینٹر قائم کیا گیا ہے۔

تارکین وطن کا مسئلہ: ہنگری کے وزیراعظم کی یورپی حکام سے ملاقات

پولیس حکام کو تارکینِ وطن کو ٹرین سے اتارنے پر کافی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا اور اس دوران ہونے والی ہاتھا پائی بھی ہوئی جس میں چند افراد زخمی ہو گئے۔

پولیس نے تارکین وطن کو ٹرین سے نکالنے سے پہلے میڈیا کو وہاں سے نکل جانے کا کہا۔ ٹرین میں سوار تارکین ’جرمنی، جرمنی‘ چلا رہے تھے جبکہ خواتین سمیت کئی ٹرین کی پٹری پر لیٹ گئے جنھیں پولیس اہلکاروں نے زبردستی وہاں سے ہٹایا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption تارکینِ وطن میں سے زیادہ تر کا تعلق شام سے ہے لیکن ان میں عراق، پاکستان اور افغانستان سے آئے ہوئے لوگ بھی شامل ہیں

دوسری جانب یورپی رہنماؤں میں تارکین وطن کے بحران سے نمٹنے کے معاملے پر اختلافات سامنے آئے ہیں اور ہنگری کے وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ تارکینِ وطن کا مسئلہ اصل میں ’جرمنی کا مسئلہ‘ ہے کیونکہ یورپی یونین میں آنے والے سبھی تارکینِ وطن وہاں ہی جانا چاہتے ہیں۔

جرمنی کی چانسلر اینگلا مرکل اور فرانس کے صدر فرانسو اولاند نے ایک بیان میں کہا ہے کہ تارکین وطن کی یورپی ممالک میں منصفانہ تقسیم کی تجاویز تیار کریں گے۔

انھوں نے بیان میں کہا ہے کہ یورپی یونین کو جنگ زدہ علاقوں سے نکلنے والے افراد کو تحفظ دینے کی ذمہ داریوں پر فیصلہ کن انداز میں عمل درآمد کرنا ہو گا۔

خیال رہے کہ جرمنی پناہ گزینوں کی بڑی تعداد کو قبول کرنے پر تیار ہے مگر دوسرے ممالک اس پر آمادہ نہیں۔

اس سے پہلے جمعرات کو ہنگری کے وزیرِ اعظم وکٹر اوربان نے جمعرات کو ایک پریس کانفرنس میں یہ بھی کہا کہ ہنگری بغیر اندراج کے کسی تارکینِ وطن کو بھی اپنے ملک سے نہیں نکلنے دے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption تارکینِ وطن کے لیے سٹیشن کھول دیا گیا ہے لیکن مشرقی یورپ جانے والے ٹرین بند پڑی ہیں

وکٹر اوربان، جو امیگریشن مخالف جماعت فدیز کے سربراہ ہیں، مذاکرات کے لیے برسلز میں موجود تھے۔ انھوں نے کہا کہ ہنگری کے عوام ’بہت ڈرے ہوئے ہیں۔ یورپ کے لوگ ڈرے ہوئے ہیں کیونکہ وہ دیکھتے ہیں کہ یورپی رہنما، جن میں وزرائے اعظم بھی شامل ہیں، صورتِ حال کو قابو کرنے سے قاصر ہیں۔‘

یورپی پارلیمان کے صدر مارٹن شلز کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس کے دوران ہنگری کے رہنما نے کہا کہ کوئی بھی ہنگری، سلوینیا، پولینڈ یا ایسٹونیا میں نہیں رہنا چاہتا۔’سب جرمنی جانا چاہتے ہیں۔ ہمارا کام ان کا اندراج کرنا ہے۔‘

خیال رہے کہ صرف جولائی میں یورپ میں داخل ہونے والے پناہ گزینوں کی تعداد ایک لاکھ سات ہزار تک پہنچ گئی ہے جو ایک ریکارڈ ہے۔ جرمنی کا اندازہ ہے کہ رواں سال اس کے یہاں آٹھ لاکھ پناہ گزین پہنچیں گے جوگذشتہ سال سے چار گنا زیادہ ہیں۔

افریقہ اور مشرق وسطیٰ سے ہزاروں کی تعداد میں تارکین وطن یورپ کا رخ کر رہے ہیں، جس کے باعث یورپی یونین کے رکن ممالک کو اس بحران سے نمٹنے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل تشکیل دینے میں دشواری کا سامنا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption تارکین وطن کے بحران کے حل کے لیے یورپی یونین کے وزرائے داخلہ کا اجلاس 14 ستمبر کو برسلز میں ہوگا

اٹلی اور یونان کا کہنا ہے کہ ان کے ساحلوں پر بڑی تعداد میں تارکین وطن پہنچے ہیں، جبکہ دیگر ممالک بشمول جرمنی بھی بڑی تعداد میں پناہ گزینوں کو قبول کرنے کے لیے تیار ہیں۔ تاہم کئی ممالک بشمول برطانیہ اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

تارکین وطن کے بحران کے حل کے لیے یورپی یونین کے وزرائے داخلہ کا اجلاس 14 ستمبر کو برسلز میں ہوگا۔

برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کا کہنا ہے کہ ’زیادہ سے زیادہ تارکینِ وطن مسئلے کا حل نہیں ہے۔‘

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ترکی کے ساحل کے قریب یونان جانے والی تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے سے پانچ بچوں سمیت 12 پناہ گزین ڈوب گئے ہیں ۔

اسی بارے میں