’ہم اپنے ملک میں مسلمانوں کی بڑی تعداد نہیں چاہتے‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ہنگری کے وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ تارکینِ وطن کا مسئلہ اصل میں ’جرمنی کا مسئلہ‘ ہے

ہنگری کے وزیراعظم وکٹر اوربان نے خبردار کیا ہے کہ یورپ آنے والے بڑی تعداد میں مسلمان پناہ گزینوں سے یورپی بر اعظم کی عیسائی بنیادوں کو خطرہ ہے۔

تاہم ان کے اس دعوے کو جرمنی نے رد کر دیا ہے۔

’ہم بھی انسان ہیں‘ (تصاویر)

’تارکین وطن کا بحران دراصل جرمنی کا مسئلہ ہے‘

خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق برسلز میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’ہم اپنے ملک میں بڑی تعداد میں مسلمان نہیں چاہتے‘

فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جمعرات کو ہنگری کے وزیراعظم نے یورپ میں جرمنی کے اخبار فرینکفرٹر الگیمین زیٹنگ میں تارکین وطن کے حوالے سے لکھا ہے کہ ’اگر تعداد میں اضافہ ہوگا تو آپ تارکین وطن کو قبول نہیں کر سکتے۔‘

انھوں نے مزید لکھا کہ ان میں سے بیشتر عیسائی نہیں بلکہ مسلمان ہیں۔ انھوں نے یورپی یوربین کی امیگریشن کی پالیسی کو بھی ’ناکام‘ قرار دیا۔

انھوں نے لکھا کہ ’ہمیں یہ بالکل نہیں بھولنا چاہیے کہ جو لوگ یہاں آرہے ہیں وہ ایک مختلف مذہب کے زیراثر پلے بڑھے ہیں اور ایک مختلف ثقافت کی نمائندگی کرتے ہیں۔‘

’بیشتر عیسائی نہیں بلکہ مسلمان ہیں۔ یہ ایک اہم سوال ہے کیونکہ یورپ اور یورپی کلچر کی بنیادیں عیسائیت پر ہیں۔ یا کیا یہ ہے تشویش ناک صورتحال نہیں ہے کہ یورپ کے عیسائی کلچر یورپ کی اپنی عیسائی اقدار قائم رکھ نہیں پارہا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption تارکین وطن کے بحران کے حل کے لیے یورپی یونین کے وزرائے داخلہ کا اجلاس 14 ستمبر کو برسلز میں ہوگا

اے ایف پی کے مطابق جرمن چانسلر انگیلا مرکل نے سوئٹزرلینڈ کے شہر برن کے دورے کے دوران کہا ہے کہ ’ کسی حد تک ہمارے ذہن میں عیسائی اقدار موجود ہیں لیکن میرے خیال میں انسان کی عظمت زیادہ اہم ہے۔ اور اس کے حفاظت ہراس جگہ کرنا چاہیے جہاں یہ خطرے میں ہے۔‘

واضح رہے کہ ہنگری کے دارالحکومت بڈاپیسٹ کے ریلوے سٹیشن پر ہزاروں کی تعداد میں پھنسے ہوئے تارکین وطن کے مسئلے پر بات کرنے کے لئے ہنگری کے وزیراعظم اور یورپی یونین کے حکام برسلز میں ملاقات کررہے ہیں۔

اس دوران ہنگری کے وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ تارکینِ وطن کا مسئلہ اصل میں ’جرمنی کا مسئلہ‘ ہے کیونکہ یورپی یونین میں آنے والے سبھی تارکینِ وطن وہاں ہی جانا چاہتے ہیں۔

جرمنی کی چانسلر اینگلا مرکل اور فرانس کے صدر فرانسو اولاند نے ایک بیان میں کہا ہے کہ تارکین وطن کی یورپی ممالک میں منصفانہ تقسیم کی تجاویز تیار کریں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption جرمنی پناہ گزینوں کی بڑی تعداد کو قبول کرنے پر تیار ہے مگر دوسرے ممالک اس پر آمادہ نہیں

انھوں نے بیان میں کہا ہے کہ یورپی یونین کو جنگ زدہ علاقوں سے نکلنے والے افراد کو تحفظ دینے کی ذمہ داریوں پر فیصلہ کن انداز میں عمل درآمد کرنا ہو گا۔

خیال رہے کہ جرمنی پناہ گزینوں کی بڑی تعداد کو قبول کرنے پر تیار ہے مگر دوسرے ممالک اس پر آمادہ نہیں۔

اس سے پہلے ہنگری کے وزیرِ اعظم وکٹر اوربان نے جمعرات کو ایک پریس کانفرنس میں یہ بھی کہا کہ ہنگری بغیر اندراج کے کسی تارکینِ وطن کو بھی اپنے ملک سے نہیں نکلنے دے گا۔

وکٹر اوربان، جو امیگریشن مخالف جماعت فدیز کے سربراہ ہیں، مذاکرات کے لیے برسلز میں موجود تھے۔ انھوں نے کہا کہ ہنگری کے عوام ’بہت ڈرے ہوئے ہیں۔ یورپ کے لوگ ڈرے ہوئے ہیں کیونکہ وہ دیکھتے ہیں کہ یورپی رہنما، جن میں وزرائے اعظم بھی شامل ہیں، صورتِ حال کو قابو کرنے سے قاصر ہیں۔‘

یورپی پارلیمان کے صدر مارٹن شلز کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس کے دوران ہنگری کے رہنما نے کہا کہ کوئی بھی ہنگری، سلوینیا، پولینڈ یا ایسٹونیا میں نہیں رہنا چاہتا۔’سب جرمنی جانا چاہتے ہیں۔ ہمارا کام ان کا اندراج کرنا ہے۔‘

Image caption صرف جولائی میں یورپ میں داخل ہونے والے پناہ گزینوں کی تعداد ایک لاکھ سات ہزار تک پہنچ گئی ہے

خیال رہے کہ صرف جولائی میں یورپ میں داخل ہونے والے پناہ گزینوں کی تعداد ایک لاکھ سات ہزار تک پہنچ گئی ہے جو ایک ریکارڈ ہے۔ جرمنی کا اندازہ ہے کہ رواں سال اس کے یہاں آٹھ لاکھ پناہ گزین پہنچیں گے جوگذشتہ سال سے چار گنا زیادہ ہیں۔

افریقہ اور مشرق وسطیٰ سے ہزاروں کی تعداد میں تارکین وطن یورپ کا رخ کر رہے ہیں، جس کے باعث یورپی یونین کے رکن ممالک کو اس بحران سے نمٹنے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل تشکیل دینے میں دشواری کا سامنا ہے۔

اٹلی اور یونان کا کہنا ہے کہ ان کے ساحلوں پر بڑی تعداد میں تارکین وطن پہنچے ہیں، جبکہ دیگر ممالک بشمول جرمنی بھی بڑی تعداد میں پناہ گزینوں کو قبول کرنے کے لیے تیار ہیں۔ تاہم کئی ممالک بشمول برطانیہ اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

تارکین وطن کے بحران کے حل کے لیے یورپی یونین کے وزرائے داخلہ کا اجلاس 14 ستمبر کو برسلز میں ہوگا۔

اسی بارے میں