’انسانیت ساحل پر بہہ کر آ گئی‘

Image caption ایلان کی تصویر سامنے آنے کے بعد شام کے بحران میں انسانی جانوں کے ضیاع پر ایک مرتبہ پھر بحث شروع ہو گئی ہے

ترکی کے ساحل پر تین سالہ شامی بچے ایلان کردی کی لاش کی تصویر پر انٹرنیٹ پر خوب بحث ہو رہی ہے، لیکن کیا اس سے شامی تارکین وطن کے بارے میں دنیا کی رائے بدل جائے گی؟

شام کے شہر کوبانی کے تین سالہ بچے ایلان کردی اپنے خاندان کے ساتھ یونان پہنچنے کی کوشش کی دوران سمندر میں ڈوب گئے تھے اور ان کی لاش ترکی کے ساحل پر اوندھے منہ پڑی ہوئی ملی تھی۔

اس منظر نے دنیا کو جھنجھوڑ کے رکھ دیا ہے۔

1: ’انسانیت ساحل پر بہہ کر آ گئی‘

ترکی کی ایک نیوز ایجنسی نے ان کی تصویر جاری کی تھی اور اس کے بعد سے دنیا بھر میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹوں پر غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

ٹوئٹر پر اس تصویر کے بارے میں ٹرینڈ کرنے والے پانچ ہیش ٹیگز میں سے ایک ’انسانیت ساحل پر بہہ کر آ گئی‘ ہے۔

ترکی کا یہ محاورہ کا ان لوگوں نے استعمال کیا جنھوں نے سب سے پہلے اس تصویر کو ٹوئٹر پر ہیش ٹیگ ’#kiyiyavuraninsanlik‘ کے ساتھ استعمال کرنا شروع کیا تھا۔

Image caption ترکی میں لوگ تنقید کر رہے ہیں کہ انسانوں سے زیادہ ویل مچھلیوں کی فکر ہے

اس ہیش ٹیگ کو گذشتہ 24 گھنٹے کے دوران دو لاکھ بار استعمال کیا گیا۔ اس کے علاوہ دیگر ہیش ٹیگز میں’where children die in the world‘ یعنی ’جہاں دنیا میں بچے مرتے ہیں‘ بھی نمایاں رہا۔

ترکی میں انٹرنیٹ صارفین نے تصویرکی وجہ سے سامنے آنے والے مسائل کی اخلاقی ذمہ داریوں پر کھل کی بحث کی۔ ’جب بچے سو رہے ہوتے ہیں تو آپ کو خاموش رہنا چاہیے لیکن اس وقت نہیں جب وہ مر جاتے ہیں۔‘

اس پر صارف براق اتیس نے کہا: ’بچے ہمیں معاف کر دو، ہم نے تمھاری اتنی دیکھ بھال نہیں کی جتنی ہم ساحلوں پر ویل مچھلیوں کی کرتے ہیں۔‘

اس کے فوراً بعد بحث چھڑ گئی کہ کیا اس تصویر کی وجہ سے یورپ میں تارکین وطن کے مسئلے پر رائے بدل جائے گی اور یہ تصویر شام سے آنے والی خون آلود تصاویر سے کتنی مختلف ہے۔

2: ہمیں اسے کیوں یاد رکھنا چاہیے

Image caption ایلان کے اہل خانہ نے ان کی بھائی کے ساتھ تصویر میڈیا کو جاری کی ہے

سماجی رابطوں پر جلد ہی ایلان کردی اور ان کے پانچ سالہ بھائی کی تصاویر جاری کی گئیں، جن میں وہ زندہ تھے اور پیار محبت سے بھرپور زندگی گزار رہے تھے۔

ابھی تک یہ واضح نہیں کہ آیا یہ تصاویر پہلے استعمال ہوئی ہیں کہ نہیں لیکن کینیڈا کے اخبار کینیڈا نیشنل پوسٹ نے ان تصاویر کو بچوں کی ایک آنٹی کے انٹرویو کے ساتھ شائع کیا ہے۔ بچوں کی آنٹی وینکوور میں رہائش پذیر ہیں اور صحافیوں کے مطابق بچوں کے رشتہ داروں نے یہ تصاویر دی ہیں۔

انٹرنیٹ پر متعدد افراد نے ان تصاویر کا تبادلہ کیا ہے اور ان پر بہت سوں نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ’ ایلان کردی کو یاد رکھنے کا یہ بہترین طریقہ ہے۔‘ ایلان کردی کا نام ٹوئٹر پر 50 ہزار مرتبہ ٹویٹ ہو چکا ہے۔

3: کیا تصویر کا استعمال کرنا یا تبادلہ کرنا ٹھیک ہے؟

بی بی سی نے ایلان کردی کی صرف ایک تصویر جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں پولیس افسر نے ان کی لاش کو اٹھا رکھا ہے اور وہ اس میں ناقابل شناخت ہیں۔ تاہم دیگر کئی میڈیا اداروں نے ایلان کردی کی تصاویر جاری کی ہیں۔

سماجی رابطوں پر بھی اس پر بحث کی جا رہی ہے کہ اس طرح کی روح فرسا تصاویر کو ٹویٹ کرنے یا جاری کرنے سے کیا حاصل کیا جا رہا ہے۔ اس ضمن میں حقوق انسانی کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کے ایک بلاگ کو شیئر کیا جا رہا ہے جس میں یہ دلیل دی جا رہی ہے کہ تصویر کو شیئر کرنے سے ہو سکتا ہے کہ یورپی رہنماؤں پر اثر پڑے۔

لیکن کئی دوسرے افراد نے تصویر کو شیئر نہ کرنے پر زور دیا ہے کیونکہ ان کے مطابق یہ جھنجھوڑ دینے والی روح فرسا تصویر ہے۔

4: عرب ضمیر مر گیا ہے

انگریزی سے بڑھ کر عربی میں اس تصویر پر بحث ہو رہی ہے جس میں عربی ہیش ٹیگ’ A Syrian Child Drowns‘ یعنی ’ایک شامی بچہ ڈوب گیا،‘ پر تین لاکھ پیغامات دیے گئے ہیں۔ اس میں کئی نے اخلاقی ذمہ داریوں کے مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے کارٹون خاکوں اور علامات کا استعمال کیا ہے۔

جمعرات کو عربی میں ایک اور ہیش ٹیگ ’Arab Conscience‘ یعنی ’عرب ضمیر‘ ٹرینڈ کر رہا ہے۔ اس ٹیگ کو استعمال کرنے افراد اس ضرورت پر زور دے رہے ہیں کہ عرب دنیا یورپ کا رخ کرنے والے عرب تارکین وطن کے سلسلے میں اپنی ذمہ داریوں سے منھ موڑ رہی ہے۔

اس کے علاوہ عرب ممالک کی تارکین وطن کے بارے میں سخت قانون کے بارے میں بحث نے بھی شدت اختیار کی ہے جس میں امیر خلیجی ممالک سے کہا جا رہا ہے کہ وہ تارکین وطن کے بارے میں سخت پالیسیوں کو تبدیل کریں۔ 12 ہزار پیغامات میں کہا گیا ہے کہ ’یہ مطالبہ بہت مقبول ہو گیا ہے کہ تارکین وطن کو سعودی عرب جانے دیا جائے۔‘

5: برطانیہ سمیت مغرب میں پناہ دینے کے قوانین میں تبدیلی کے مطالبے

Image caption عرب ممالک کی جانب سے شامی تارکین وطن کے مسئلے سے آنکھیں بند کرنے پر خوب تنقید کی جا رہی ہے

ایلان کردی کی تصویر سامنے آنے کے بعد یورپ میں پناہ حاصل کرنے سے متعلق قوانین میں تبدیل کرنے کا مطالبہ بھی زور پکڑ گیا ہے۔ ’Refugees Welcome‘ کا ہیش ٹیگ ٹرینڈ کر رہا ہے، جس میں جرمنی کی جانب سے قوانین میں تبدیل پر بحث ہو رہی ہے اور اسے 74 ہزار بار ٹویٹ کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ انگریزی کا فقرہ People Not Migrants یعنی ’تارکین وطن نہیں، انسان‘ استعمال کیا گیا ہے۔

برطانوی پارلیمان کی ویب سائٹ پر ایک پٹیشن میں حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ’پناہ حاصل کرنے کے خواہش مند افراد کی زیادہ تعداد کو قبول کیا جائے اور برطانیہ میں تارکین وطن کے آنے کی حمایت میں اضافہ کیا جائے۔ اس میں صرف جمعرات کو ڈیڑھ لاکھ نئے نام شامل ہوئے ہیں اور اب تک دو لاکھ 24 ہزار افراد اس پر دستخط کر چکے ہیں۔

اسی بارے میں